HTV Pakistan

بھارت میں بیویاں اور مائیں کرائے پر دینے کا مکروہ کاروبار

پڑھنے کا وقت: 7 منٹ

وسیم سرحدی ۔۔۔۔۔۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار بھارت میں غربت اور افلاس کے شرم ناک واقعات اس کے ٴٴجمہوری ٴٴمنہ پر طمانچہ ہیں، بھارتی مملکت اپنی شہریوں کو زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصر ہے خصوصاً یہاں کی خواتین سے روا رکھا جانے والاسلوک تاریک دور کی یاد دلاتا ہے .
تھامسن رائٹرز فائونڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق خواتین کے لئے بھارت دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے جہاں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں ،راہ چلتی خواتین اور بسوں میں سفر کے دوران زیادتی کے واقعات معمول بن چکے ہیں، بھارتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں گزشتہ دو سال کی نسبت ریپ اور پھر قتل کردینے جیسے واقعات میں 12سے 15فیصد اضافہ ہواہے جبکہ خواتین سے ہونے والے دیگرجرائم میں 3 سے 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا.
اس عرصہ کے دوران ریپ کے 40 فیصد واقعات صرف دہلی میں ہوئے، ایک سال کے دوران 187خواتین پر تیزاب پھینکا گیا،جن میں سے 19خواتین وفاقی دارالحکومت دہلی میں تیزاب گردی کا شکار ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 30فیصدخواتین اپنے سسرال میں بدترین تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں جن میں سے بعض جان سے ہاتھ دھوبیٹھتی ہیں۔

بھارت میں بیویاں کرائے پر لینے اور دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے لیکن بھارتی حکومت اس معاملے میں بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ،صرف اتنا ہی نہیں انڈیا کو دنیا بھر میںٴٴ کرائے کی ماں ٴٴکا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے بانجھ جوڑے آ کر بچہ دانی کرائے پر حاصل کرتے ہیں
حیرت ہے کہ اس کے باوجود مغربی اقوام پورے جوش وخروش سے بھارت کے سیاسی ، معاشی مفادات میں اس کی پشتی بانی کررہی ہیں۔ اگر ان جرائم کا 10 فیصد بھی کسی مسلم ملک میں ہوتو مغربی حکومتیں اس کا ناطقہ بند کردیتیں ،کیا اس سے بڑا ظلم ہوسکتاہے کہ ایک عورت شادی کے بعد ایک خوبصورت زندگی کے خواب سجاتے ہوئے شوہر کے گھر جاتی ہے، چند برسوں بعد اسے کرائے پر کسی دوسرے شخص کے حوالے کردیاجاتاہے ،اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ کرائے پر بیوی دستیاب ہے کے بینر تلے میلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں بہت سی چیزیں کرائے پر ملتی ہیں جیسے مکانات، گاڑیاں مگر اب تودنیا کے بعض حصوں میںٴٴ رحمِ مادرٴٴکوکرائے پردینا بھی معمول بنتاجارہا ہے لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیںکہ بیویاں بھی کرائے پر ملتی ہیں۔ جی ہاں ایسا صرف اور صرف ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ہوتا ہے۔ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک گائوں میں امیر اور ٴٴاونچیٴٴ ذات کے لوگوں کو خواتین ٴٴبطور بیویٴٴ کرائے پر دی جاتی ہیں، چاہے وہ ایک ماہ کے لئے کرائے پر دی جائیں یا ایک سال کے لئے ،عورت کرائے پر دینے کے لیے شیوپوری جو مدھیہ پردیش کے ضلع میں باقاعدہ ایک معاہدہ طے کیا جاتا ہے، یہ معاہدہ 10 روپے سے100روپے تک کے اسٹامپ پیپر پر کیا جاتا ہے.
جس میں عورت کو کرائے پر رکھنے کی شرائط طے کی جاتی ہیں ،بعض مرد خواتین کا تبادلہ بھی کرلیتے ہیں، اس کے لئے یہاں باقاعدہ ایک بازار لگتا ہے جہاں بد نصیب لڑکیوں کو گاہکوں کے سامنے پیش کیاجاتاہے، وہ گھنٹوں تک کھڑی رہتی ہیں، گاہک آتے ہیں، عورتوں کا ایسا جائزہ لیتے ہیں جیسے وہ کوئی مویشی ہوں۔ جس مرد کو جو لڑکی پسند آتی ہے اس کا بھیڑ بکریوں کی طرح بھائو طے کیا جاتا ہے، نتیجتاً وہ لڑکی یا خاتون کرائے کی بیوی کے طور پر چلی جاتی ہے۔
معاہدہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد وہ خاتون ایک بار پھر کرائے کے لئے دستیاب ہوتی ہے ،بھارت میں یہ گھنائونا کاروبار صرف مدھیہ پردیش تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں بھی لوگ بیویاں کرائے پر دیتے ہیں۔ یہاں اعلیٰ ذات کی برادریوں میں خواتین کی کمی کے سبب جو لوگ شادی نہیں کرپاتے وہ کرائے کی بیویوں سے گزارہ کرتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں لڑکیوں کی خرید و فروخت بھی کی جاتی ہے۔
بعض عورتیں گھریلو مسائل اور غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر ازخود ایسا کرنے پر مجبور ہیں ، مثال کے طور پر گجرات کے ایک گائوں میں نچلی ذات کے ایک شخص پراجپاتی نے اپنی بیوی لکشمی کو ماہانہ کرایہ پر ایک زمیندار کو دے رکھا ہے، زمیندار بھولبھائی پیٹل کا تعلق شمالی گجرات کے ایک گائوں سے ہے، لکشمی کی عمر32 سال ہے اور اس کے چار بچے ہیں،اس کا تعلق ریاست گجرات کے ضلع بھرچ کے گائوں نیترنگ سے ہے،جہاں یہ دونوں میاں بیوی اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔
بعض مرد خواتین کا تبادلہ بھی کرلیتے ہیں، اس کے لئے یہاں باقاعدہ ایک بازار لگتا ہے جہاں بد نصیب لڑکیوں کو گاہکوں کے سامنے پیش کیاجاتاہے
غربت کی وجہ سے ان کے حالات بہت خراب تھے، اس دوران ان کے گھر گائوں کی تین خواتین سمن وساوا، کیسری وساوا اور رنجن وساوا آئیں،انہوں نے دونوں میاں بیوی سے کہا کہ اگر لکشمی بھولبھائی پیٹل سے معاہدہ کے تحت شادی کر لے تو آپ لوگوں کی قسمت بدل جائے گی اور وہ ہر ماہ 8 ہزار روپے ادا کیا کرے گا، یہ پیش کش سن کر لکشمی کے شوہر کے باچھیں کھل اٹھیں کیونکہ اسے دس ماہانہ تنخواہوں کے برابر پیسے مل رہے تھے۔
آخر کار اس زمیندار بھولبھائی پیٹل کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا۔ لکشمی زمیندار کے ساتھ خوش رہنے لگی اور اس نے اپنے گائوں واپس آنے سے انکار کردیا۔ تاہم کسی نہ کسی طرح سے لکشمی کو مجبور کرکے واپس گھر لایا گیا، وہ یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی بلکہ وہ بھولبھائی پیٹل کے ساتھ زندگی کو بہتر سمجھنے لگی تھی ،اس نے واپس جانے کی متعدد بار کوشش بھی کی، اسے روکنے کے لیے پراجپاتی نے پولیس کی مدد بھی حاصل کی مگر ان کے آپس میں طے پائے گئے معاہدے کی وجہ سے پولیس نے پراجپاتی سے معذرت کر لی۔
نتیجتاً پراجپاتی اس بات پر راضی ہوگیا کہ اگر لکشمی واپس جانا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کے لیے بھولبھائی پیٹل کو ہمارے خاندان کے لیے ماہانہ پیسے بھیجنا ہوں گے۔ شاید اس کی ساری کوشش ہی بھولبھائی لکشمی سے نئی ڈیل کرنے سے متعلق تھی ،جب اس سلسلے میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریش منیا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہناتھاکہ ہم لوگ ایسے معاملات میں کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ان لوگوں کی باہمی رضا مندی سے طے پاتے ہیں۔ یہاں بہت سی خواتین اس گھنائونے کاروبار میں شامل نہیں ہوناچاہتیں مگر ان کے خاوند پیسوں کی خاطر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیتے ہیں،چنانچہ وہ خواتین چار و ناچار کرایہ ادا کرنے والے کے ساتھ چلی جاتی ہیں تاکہ اس سے حاصل ہونے والے پیسوں سے ان کے بچے بہتر پرورش پاسکیں ،مدھیہ پردیش اور گجرات کے متعدد دیہاتوں میں بیویاں کرائے پر دینے کا گندا دھندہ اب نہایت منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، اس کا دائرہ وسیع ہورہاہے۔
یہاں کے بعض دیہاتوں میں عورت 500 روپے میں بیچنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے گائوں نیترنگ، والیا، دیدیاپاڈا، سکبارا، راج پپلا اور جغادیہ میں رہنے والے قبائلی جن کا تعلق وساوا خاندان سے ہے، مختلف ایجنٹوں کے ذریعے بناس کنتھا، مہسنا، پٹن، راجکوٹ گاندھی نگر اور احمد آباد کے پیٹل اور ٹھاکر خاندانوں میں معاشی معاہدے کرکے خواتین بیاہتے ہیں،یہ ایجنٹ پیٹل خاندان سے 65 ہزار سے 70 ہزار روپے لیتے ہیں لیکن وساوا خاندان کوصرف15ہزار سے 20 ہزار روپے دیتے ہیں۔
یوں یہ ایجنٹ آسانی سے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کما لیتے ہیں۔ دلہنیں فروخت کرنے کا یہ دھندا بین الاقوامی سطح تک پھیل رہاہے، اسی طرح کا ایک واقعہ گودھرا میں بھی پیش آیا جہاں بہاریہ خاندان کی ہیر بہاریہ کی شادی امریکہ میں مقیم پیٹل خاندان کے کلپیش پیٹل سے کردی گئی اس کے بدلے میں ایجنٹ نے ہیربہاریہ کے گھر والوں کو ایک لاکھ روپے دلائے ،بیویاں کرائے پر دینے جیسے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ بعض خاندانوں میں خواتین کی کمی بتائی جاتی ہے جبکہ اس گندے کاروبارکی حوصلہ افزائی کرنے والے دلال غریب خاندانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سارے معاملات طے کراتے ہیں۔ بیویاں کرائے پر لینے اور خرید و فروخت کرنے میں زیادہ تر قبائلی خاندان ملوث پائے جاتے ہیں، غربت کی وجہ سے ان خاندانوں میں بے تحاشا مسائل ہوتے ہیں۔
یہاں کی پولیس کا یہ بھی کہناہے کہ آج تک ہمیں کسی نے کوئی شکایت نہیں کی اس لیے اس معاملے پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ،واضح رہے کہ بھارت میں ریاست گجرات غربت کے لحاظ سے14ویں جبکہ مدھیہ پردیش21 ویں نمبر پر ہے، ان ریاستوں کے غریب کسان بھی بڑے زمینداروں کے ظلم وستم کے شکار ہیں، زمین دار انھیں معاوضہ بھی انتہائی کم دیتے ہیں جس سے ان کا گزر بسر مشکل سے ہوتا ہے، یہ لوگ معاشی طور پر اس قدر مسائل کا شکار ہوتے ہیں کہ ان میں سے بعض لوگ اپنی غیرت کو بھی دائو پر لگانے سے گریز نہیں کرتے ،بھارت کی بعض ریاستوں میں لڑکیوں اورخواتین کی کمی کیوں ہے؟
دراصل سن1870 میں برطانوی نو آبادیاتی حکومت نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت لڑکیوں کی شادی کرنا ضروری ہوگا اور لڑکی والے دلہا والوں کو نقدی اور تحائف بھی دیں گے، یہ والدین پر ایک بڑا بوجھ تھا۔ پھر1961 میں کہا گیا کہ لڑکے لڑکیوں کی نسبت زیادہ کما سکتے ہیں اس لیے جہیز دینا غیر قانونی ہے لیکن نیاقانون جاری ہونے کے باوجود پرانے قانون کے بطن سے لڑکی والوں کے سر پر جہیز کے نام پر بھاری بھرکم نہ اتاراجاسکا، لوگوں نے قانون کو مکمل طور پرنظراندازکیا،1980 میں الٹراسائونڈ کی ٹیکنالوجی متعارف ہوئی، جس سے بچوں کی جنس معلوم کرنا آسان ہوگیا۔
لوگ بچی کی صورت میں اسے دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا کرتے تھے،1994 میں ڈاکٹروں کو جنس نہ بتانے کا پابند کردیا گیا۔ ایک ڈاکٹر کے خلا ف مقدمہ بھی چلایا گیا لیکن حمل ضائع کرانے جیسے واقعات میں کمی واقع نہ ہوئی، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے بالخصوص اونچی ذات کے ٹھاکر اور پیٹل اپنی خواتین سے بیٹے کا تقاضا کرتے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں دس لاکھ سے زائد خواتین نے حمل ساقط کروائے۔
بھارت میں 1991 کی مردم شماری کے مطابق ہزار مردوں کے مقابلے میں945 خواتین تھیں، 2001 کی مردم شماری کے مطابق ایک ہزار کے مقابلے میں927 تھیں، خصوصاً پنجاب میں 1000 لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں صرف 790 تھیں، پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں یہ تناسب ہزار کے مقابلے میں پانچ سو یا چھ سو تک جاپہنچا۔ اس بحران کے نتیجے میں بیویاں کرائے پر لینے اور دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے لیکن بھارتی حکومت اس معاملے میں بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ،صرف اتنا ہی نہیں انڈیا کو دنیا بھر میںٴٴ کرائے کی ماں ٴٴکا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے بانجھ جوڑے آ کر بچہ دانی کرائے پر حاصل کرتے ہیں ،حالیہ برسوں میں جنوبی شہر چینئی میں درجنوں ایسے ہسپتال کھل گئے ہیں جہاں یہ طریقہ آزمایا جاتا ہے ،کرائے کی زیادہ تر مائوں کا تعلق غریب خاندانوں سے ہوتا ہے جو پیسے کی خاطر یہ کام کرتی ہیں، عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ خالصتاً کاروباری سودا ہے لیکن تین ایسی مائوں نے بتایا کہ اپنی کوکھ میں 9 ماہ تک بچہ پالنے کے بعد ان کا بچے سے جذباتی تعلق استوار ہو جاتا ہے، اور جب ان سے بچہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اس کا درد محسوس کرتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*