.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » راحت قلب پیغمبر جناب خدیجتہ الکبریؓ

راحت قلب پیغمبر جناب خدیجتہ الکبریؓ

پڑھنے کا وقت: 7 منٹ

منصور مہدی ……
آپّ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب کے کام میں آسانی پیدا فرمائی
کتب سیرت و تاریخ شاہد ہیں کہ حضرت خدیجہّ نام ہے ایثار و قربانی کا،،،،، احادیث متبرکہ میں مرکوز ہے کہ خدیجہ الکبری نام ہے راحت قلب پیغمبر اکرم کا اور خدیجہ محور و مرکز نگا ہیں رحمتہ اللعالمین ہیں۔
حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس برس کے سن مبارک میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا 40برس کی تھیں اس وقت ان سے پہلا عقد فرمایا، گوکہ اس وقت جناب خدیجہ الکبریّ کا حسن و جمال،جوانی و رعنائی ڈھل چکی تھی لیکن اس کے بوجود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی جانب سے عقد کی پیشکش کو منظور فرمایا اور اپنی امت کے لیے پیغام چھوڑا کہ اللہ تعالی کے برگزیدہ ہستیاں کسی کے حسن و جمال و شباب پر فریفتہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اعلی اوصاف، عمدہ سیرت ا ور پاکیزہ کردار کے باعث ایک دوسرے کا انتخاب کرتے ہیں۔

جناب حضرت خدیجہ الکبری جیسی عظیم ہستیاں ہماری خواتین کے لیے مشعل راہ اور رول ماڈل ہونا چاہئیں نا کہ ہم اور ہماری خواتین مغرب کی دلدادہ بنیں، اللہ اس خاتون عظیم کی تقلید کرنے اور ان کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی ہمیں توفیق عطا کرے۔اللہ ہمیں بھی ہدایت فرمائے کہ ہم ایسی عظیم خواتین کے ایام عالمی سطح پر منائیں۔
باوجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہرت نیک، دیانتدار اور ایماندار کی تھی لیکن اس وقت تک کسی کو بھی خبر نہ تھی کہ حضور اللہ کی طرف سے پیغمبر بن کر آنے والے ہیں۔ لیکن حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچاجان حضرت ابو طالب نے حضرت خدیجہ سے عقد پڑھنے کے وقت خطبہ نکاح پڑھا تو اہل مکہ پر آشکار کیا کہ ”آپّ حسب نسب میں میں بھی ملکہ ہیں اور پورے خطہ عرب میں منفرد مقام رکھتی ہیں، والد کا اسم گرامی خویلد بن اسد اور والدہ فاطمہ بنت زائدہ ہے، جائے پیدائش مکہ معظمہ ہے، کتب سیر و تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپکا نام گرامی خدیجہ آپکی والدہ فاطمہ بنت زائدہ نے تجویز فرمایا۔
مورخین کا خیال ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ابراہہ کی طرف بیت اللہ پر ہاتھیوں کے لشکر کے ہمراہ یلغار کرنے سے پندرہ سال قبل ہوئی۔ اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ خویلد بن اسد کے آنگن میں کھلنے والی یہ کلی (حضرت خدیجہّ) دنیا کو جہالت کی تاریکی سے نجات دلانے والے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں آکر ”مسلمہ اول“ کہلائے گی اور عرب کے بیہودہ ماحول میں آنکھ کھولنے والی خدیجہ سلام اللہ علیہا ”طاہرہ، کبری اور محسنہ اسلام کے القابات پائے گی۔
تواریخ میں ملتا ہے کہ حضرت خدیجہ الکبری کے والد گرامی خویلد بن اسد کا شمار شرفا ءاور معزز گھرانوں میں ہوتا تھا، انہیں برے کاموں سے نہ صرف نفرت تھی بلکہ انہیں برے کاموں کی لت میں پڑے لوگوں سے بھی میل جول رکھنا سخت ناپسند تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عرب میں بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ گاڑھ دینے کے باوجود حضرت خویلد بن اسد کا خاندان اس قبیح فعل سے کوسوں دور تھا، بلکہ اس خاندان میں عورت کو منحوس تسور کرنے کی بجائے اسے باعث عزت و افتخار سمجھ کر انکی پرورش اور تربیت کی جاتی تھی۔
حضرت خویلد بن اسد کی شہرت بھی غریبوں، بے سہارا لوگوں،یتیمووں اور بیواوں کا خیال رکھنے اور ظالم سے بیزار شخصیات میں ہوتی تھی، مساکین کی کفالت کرنا انکا محبوب مشغلہ تھا، ان کے انہیں خصائل و فضائل کے سبب مکہ معظمہ کے معتبرین نے اس گھرنے کو اہم ذمہ داریاں سونپ رکھی تھیں۔ حضرت خدیجہ الکبری نے بچپن سے لیکر جوانی تک اور حضور علیہ السلام سے عقد تک بلکہ تمام زندگانی ان اوصاف، ترجیحات اور کمالات کو مضبوطی سے تھامے رکھا جو ان کے خاندان کا خاصہ تھیں۔
حضرت خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا نے حضور کی پاکدامنی، دیانتداری اور صداقت کی شہرت دیکھ کر انہیں اپنا مال تجارت لیجانے والے قافلوں میں شریک کرنے کا سوچا، اگر یوں کہا جائے کہ خدا بزرگ برتر نے حضرت خدیجہ الکبری کی قسمت بدلنے کا فیصلہ کیا اور انہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کاروبار میں شامل کرنے کی سمجھ عطاکی۔ چنانچہ حضرت کو بلایا اور انہیں قافلے کے ساتھ جانے کی پیشکش کی تو حضور نے قبول کرلی۔
چنانچہ قافلے کے ساتھ آپ تشریف لے گئے، اسے پہلے سے کہیں زیادہ منافع ہوا، واپسی پر حضرت خدیجہ الکبری کے غلام خاص نے سفر کی تمام روداد سنائی، حضرت خدیجہ الکبری کے خادمین خاص نے سفر میں پیش آنے والے تمام واقعات ایک ایک کرکے ان کے گوش گزار کیے،،تو آپ حضور نبی کریم کی گرویدہ ہوگئیں، گویاا نہیں اپنی امیدوں اور آرزوں کا حامل مل گیا ہو، کتب میں تحریر ہے کہ حضور نبی کریم کا قافلہ ابھی واپس نہ آیا تھا کہ آپ سلام اللہ علیہا کو سہانے خواب آنے لگے، جن کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کا ایک نبی مکرم سے نکاح ہوگا، جس پر آپ نے حضور کو پیغام نکاح بھیج دیا، جس پر حضور نے کہا کہ وہ اپنے چاچا جان حضرت ابوطالبّ سے مشورہ کرکے جواب سے مطلع فرمائیں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ حضور کو نکاح کا پیغام بھیجنے سے قبل عرب کے امیر،کبیر افراد بھی بی بی خدیجہ سے نکاح کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے تھے لیکن طاہرہ و کبری بی بی انہیں مسترد کر چکی تھیں۔
حضرت ابوطالبّ نے حضرت خدیجہ الکبری سے نکاح کی اجازت عطا فرمائی، حضرت خدیجہ الکبری کی جانب سے ورقہ بن نوفل اور حضور علیہ السلام کی طرف سے آپ کے چاچا جان جناب ابوطالبّ نے خطبہء نکاح پڑھا۔ حضرت ابوطالبّ نے اپنے خطبہ ء میں کہا کہ”اس خدائے عظیم و ارفع کو سزا وار رہے جس نے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد بنایا۔ ہمارا سلسلہ نسب ایسے بزرگوں سے ملایا۔ بیت اللہ شریف کی حفاظت ہمارے سپرد کی۔ مکہ معظمہ کی سرداری ہمیں بخشی، اور ایسا پاک اور عزت والا حرم ہمیں عطا فرمایا کہ ہرسمت سے زائرین اسکے طواف کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔خدا کے اس مقدس گھر میں جو داخل ہوجاتا ہے۔ اس کے امن اور حفاظت کی ذمہ داری خود مولائے کریم لے لیتا ہے۔اس کے علاوہ ہم رب تعالی کے مشکور ہیں کہ اس نے ہمیں حکومت عطا فرمائی اور لوگوں کا حکمران بنایا، اللہ تعالی کی توصیف و تعریف کے بعد بتا دینا چاہتا ہوں کہ محمد بن عبداللہ میرا حقیقی بھتیجا ہے۔
یہ اعلی صفات اور اعلی عادات کا سرمایہ دار ہے۔ قریش میں کوئی نوجوان انسانیت اخلاقی و روحانی اقدار میں اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اور میں یہ دعوی سے کہتا ہوں کہ قبائل عرب میں ایک بھی شخص ایسا نہیں جو نیک خضائل میں محمد سے لگا کھا سکے، میرا یہ بھتیجا اگر تونگر اور دوت مند نہیں تو کوئی بات نہیں،کیونکہ مال و دولت ایک فانی چیز ہے،ہاں! انسانی صفات کو بقائے دوام حاصل ہے، معززین مجلس سے میرے بھیتجے محمد کے فضائل پوشیدہ نہیں،اور بنو اسد سے بنو ہاشم کی قرابت داری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آپ سب حضرات کو علم ہے کہ محمد بنو اسد کی خاتون خدیجہ سے عقد کرنا چاہتا ہے، میں بھری مجلس میں اعلان کرتا ہوں کہ اس کے مہر کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی، میں پھر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑی بزرگی اور بڑی شان کا انسان ہوگا۔ اور اس سے قوم کی عظمت میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا۔ (کتاب سیرت حضرت خدیجة الکبری مولف حکیم محمد ادریس فاروقی) حضرت ابو طالبّ کے خطبہ کے بعد ورقہ بن نوفل نے بھی خطبہء پڑھا۔ اس عظیم ہستیوں کی عظیم شادی کا حق مہر بیس اونٹ جن کی قیمت چار سو مثقال سونا یا پانچ سو درہم ہوتی ہے ابوطالب نے ادا کیا۔
انتہائی سادگی مگر پورے تزک احتشام سے انجام پانے والی یہ شادی تاریخ کی بہترین اور عظیم شادی قرار پائی۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی دولت کا شمار تاریخ و سیرت کی کتب میں ملنا دشوار ہے، ہاں اتنا ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے جب اعلان نبوت فرمایا تو آپ سلام اللہ علیہا نے فرمایا ”یا رسول اللہ! یہ عرب کے روساء کی فہرست ہے جو میرے مقروض ہیں یہ کلمہ پڑھتے جائیں میں اپنا قرض معاف کرتی ہوں“
حضرت خدیجہؓ اللہ تعالیٰ پر، حضور نبی کریم پر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل ہونے والی تمام چیزوں پر ایمان لانے والوں میں پہلی خاتون تھیں اور خواتین میں سے کسی اور کو یہ شرف وفضیلت حاصل نہیں ہے۔
حضرت خدیجہؓ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب کے کام میں آسانی پیدا فرما دی، مخالفین کی جانب سے جھٹلائے جانے اور ناگوار باتوں کی وجہ سے حضور نبی کریم کی طبیعت عالیہ کو دکھ اور صدمہ پہنچتا تھا اور خداتعالیٰ حضرت خدیجہ کے ذریعے اس حزن وملال کو دور فرما دیتا تھا۔ آپ جب بھی ایسی کیفیت سے دوچار ہو کر آتے آپ کے بوجھ اور غم کو ہلکا کر دیتیں اور تسلی وتشفی کے ایسے الفاظ فرماتیں کہ حزن وملال جاتا رہا، اس سے آپ زیادہ ثابت قدمی اور پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ کا کام جاری رکھتے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور نبی کریم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہو کر کہا، یارسول اللہ خدیجہؓ آپ کے لےے کھانے سے بھرا ہوا پیالہ لے کر آ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری طرف سے ان کی خدمت میں سلام عرض کر دےجےے اور ان کو بشارت دیجےے کہ جنت میں مروارید کا ایک ایسا محل ان کے لےے تیار ہے جس پر کسی کا کوئی قضیہ اور جھگڑا نہیں، حضور نبی کریم نے جب اللہ تعالیٰ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کا سلام حضرت خدیجہؓ کو پہنچایا اور فرمایا، اے خدیجہؓ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں۔ تمہارے پروردگار کا سلام تمہیں پہنچا رہے ہیں تو حضرت خدیجہؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہی ہے اور سب کو اسی سے سلامتی ملتی ہے، جبرائیل علیہ السلام پر بھی سلام ہو۔
شعب ابی طالب میں محصوری کے عرصہ میں ام المومنین سیّدہ حضرت خدیجہ بن خویلدؓ کی صحت خاصی متاثر ہوئی تھی۔ جب واپس گھر آئیں تو شدید بیمار پڑ گئیں۔ آنحضرت نے اپنی رفیقہ حیات کے علاج، خبرگیری اور دلجوئی میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی، مگر وقت معین آگیا تھا۔ ابو طالب چچا کی موت کے ایک ماہ پانچ دن بعد گیارہ رمضان دس سال نبوت میں آپ کی زوجہ محترمہ نے اس دنیا سے منہ موڑ لیا اور راہی ملک عدم ہوئیں۔ اس وقت سیّدہ خدیجہؓ کی عمر پینسٹھ سال تھی اور ربع صدی اللہ کے محبوب کی رفاقت ومعیت اور خدمت گزاری میں بسر کی۔ حضور اکرم نے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال فرمایا۔
جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی تو عین رخصتی کے وقت حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی زبان اقدس سے یہ بات نکلی کہ کاش آج اپنی صاحبزادی کی رخصتی کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا موجود ہوتیں اور اپنی صاحبزادی کے سرمبارک پر دستِ شفقت رکھتیں۔ حضور نبی کریم نے ایسے وقت میں حضرت سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام مبارک سنا تو چشمانِ پاک سے آنسو رواں ہو گئے اور ارشاد فرمایا: ”اُم سلمہ، تم نے ٹھیک کہا، خدیجہ خدیجہ ہی تھیں، انہوں نے میرے لےے بہت دکھ برداشت کےے، انہوں نے سب سے پہلے میری نبوت کی تصدیق کی اور اپنا تمام مال میرے لےے وقف کر دیا۔ کاش خدیجہ رضی اللہ عنہا اس وقت موجود ہوتیں (لیکن) اے اُم سلمہ! اللہ تعالیٰ کا یہ حکم تھا اور اس کو ایسے ہی منظور تھا۔“
جناب حضرت خدیجہ الکبری جیسی عظیم ہستیاں ہماری خواتین کے لیے مشعل راہ اور رول ماڈل ہونا چاہئیں نا کہ ہم اور ہماری خواتین مغرب کی دلدادہ بنیں، اللہ اس خاتون عظیم کی تقلید کرنے اور ان کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی ہمیں توفیق عطا کرے۔اللہ ہمیں بھی ہدایت فرمائے کہ ہم ایسی عظیم خواتین کے ایام عالمی سطح پر منائیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*