.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » کالم » "پیغام پاکستان قومی بیانیہ اور نوجوان طبقہ کی شمولیت…."

"پیغام پاکستان قومی بیانیہ اور نوجوان طبقہ کی شمولیت…."

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

عامر اسماعیل ………..
نومبر 2018ء میں ایوان صدر اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام ادارہ تحقیقات اسلامی کی متفقہ قومی بیانیہ کے حوالے سے شائع ہونیوالی کتاب پیغام پاکستان کے اجراء کی خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
جس میں اس وقت کے (صدر مملکت) ممنون حسین سمیت وفاقی وزراء، اعلی تعلیمی شخصیات، تمام مکاتب فکر کے جید علماء و نمائندگان نے شرکت کی۔ بنیادی طور پر پیغام پاکستان ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی و فرقہ وارانہ انتہاپسندی، دہشت گردی کے خلاف متفقہ طور پر تمام مکاتب فکر و تمام اہل علم شخصیات سمیت ریاست کا بیانیہ ہے۔ پیغام پاکستان بیانیہ کی چاروں مسالک کے ملک بھر سے 1800سے زائد علماء نے اپنے دستخط شدہ فتوی کے ساتھ حمایت اور توثیق کی۔

اسلام کے نام پر زبردستی خلافت کے نفاذ کا مطالبہ، جگہ جگہ خود کش حملے،مساجد، مزارات امام بارگاہوں سمیت تعلیمی اداروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن دیر آید درست آید، ریاست کی جانب سے ان مسلح گروہوں کے خلاف اعلان جنگ ہی استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔
پیغام پاکستان قومی بیانیہ کے اہم 22نکات پر تمام مکاتب فکر کے علماء نے مشترکہ فتوی میں آئین پاکستان اور قوانین پاکستان کو غیر اسلامی قرار دینے کی نفی اور گمراہی قرار دیا گیا جبکہ ریاست کے خلاف اعلان بغاوت اور ہتھیار اٹھانے کو حرام، خود کش حملوں اور دہشت گردی پھیلانے والوں کو خارج از اسلام، لسانی،علاقائی اور مسلکی بنیاد پر تفریق پیدا کرنیوالوں کو شریعت کی متحد اور ایک جسم رہنے کی تلقین،ریاست کے حکم اور اعلان کے بغیر اعلان جہاد کی مذمت، اسلام کی روح کے منا فی خود ساختہ شریعت کے نفاذ کو گمراہی،امر بالمعروف کی تشریح میں کسی دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا اور زبردستی اپنی رائے مسلط کرنا کسی فرد واحد کا حق نہیں، بیگناہ شہریوں کونشانہ بنانیوالے خوارج اور واجب سزا،سمیت دیگر اہم نکات و موضوعات کو اس دستاویز کاحصہ اور متفقہ طور پر ایک بیانیہ سامنے لایا گیا ہے.
پیغام پاکستان بیانیہ دراصل ان مسلح گروہوں اور افراد کے خلاف ریاست کا فیصلہ ہے جو ماضی میں ہمارے ہی حکمرانوں نے اپنے وقتی مفاد کیلئے تیار گئے جو بعد ازاں ریاست کیلئے سیکیورٹی رسک اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے لگے،ان گروہوں کو ماضی میں امریکہ کے ساتھ ملکر روس کے خلاف استعمال کیا اور اپنے برادر ملک افغانستان کی مدد کی۔ روس کے افغانستان سے انخلاء کے بعد اگلا مرحلہ یہاں موجود افغانستانی مہاجرین کی صفائی اور سکروٹنی کا تھا جو مکمل نہ کیا جاسکا.
اسلام کی روح کے منا فی خود ساختہ شریعت کے نفاذ کو گمراہی،امر بالمعروف کی تشریح میں کسی دوسرے مسلمان کو کافر قرار دینا اور زبردستی اپنی رائے مسلط کرنا کسی فرد واحد کا حق نہیں،
اسی دوران افغانستان میں خانہ جنگی کی ابتداء ہوئی اور عرب، ازبک اور افریقی پوری دنیاکو فتخ کرنے کا خواب دیکھتے قبائلی علاقوں تک آپہنچے،بدقستمی سے ملک میں پیداہونے والی فرقہ واریت،لسانی، علاقائی تقسیم نے اس ضمن میں جلتی پر تیل کاکام کیا،انہی مسلح گروہوں نے ریاست کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا اور دہشت گردی کے جن کو بوتل سے نکالا جس سے کوئی بھی محفوظ نہ رہ سکا، اسلام کے نام پر زبردستی خلافت کے نفاذ کا مطالبہ، جگہ جگہ خود کش حملے،مساجد، مزارات امام بارگاہوں سمیت تعلیمی اداروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن دیر آید درست آید، ریاست کی جانب سے ان مسلح گروہوں کے خلاف اعلان جنگ ہی استحکام پاکستان کی ضمانت ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پیغام پاکستان بیانیہ کو ملک نصف آبادی سے زائد طبقہ نوجوانوں تک پہنچایا جائے، اسی سلسلہ میں گزشتہ دنوں لاہور میں پیغام پاکستان کے زیر اہتمام انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سماجی علوم، آئیڈیا پاکستان کے اشتراک سے پانچ اہم موضوعات پر پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، پیغام پاکستان قومی بیانیہ، دختران پاکستان قومی بیانیہ، پیغام پاکستان کی روشنی میں میڈیا کاکردار، قیام امن کیلئے نوجوانوں کے کردار سمیت ثقافتی تنوع کا امن کیلئے کردار جیسے اہم موضوعاتاس بحث کا حصہ تھے، جامعات میں پیغام پاکستان کی روشنی میں اس طرح کے پروگرامز کا انعقاد خوش آئندہ بات ہے کیونکہ جب تک نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیغام پاکستان فتوی سے متعلق سوالات اورشکوک وشہبات کو ایڈریس نہیں کیا جائیگا اسوقت اس کے ثمرات آنا نہ ممکن ہے.
پیغام پاکستان بیانیہ کو مدارس کے طلباء میں عام کرنے کی ذیادہ ضرورت ہے، پا کستان کی 65فیصد سے زائد آبادی نوجوان نسل پر مشتمل ہے جن کا ذیادہ تر حصہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہے،جامعات میں بے یقینی، کنفیوژن، عدم برداشت اور متشدد رویوں کے خاتمے کیلئے اول طلباء کو متبادل مثبت سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے، دوئم نصاب کا از سر نو جائزہ لیکر جامعات کے نصا ب میں پیغام پاکستان دستاویز سے متعلق اسباق شامل کئے جائیں،سوئم ماہوار بنیادوں پر پیغام پاکستان کی روشنی میں سیمینارز اور مباحثوں کا انعقاد کیا جائے اور طلباء و طالبات کو زیادہ سے زیادہ اس بحث کا حصہ بنا یا جائے، چہارم سوک ایجو کیشن اور امن و رواداری کے موضوعات جامعات کی سطح پر لازمی قرار دئے جائیں.
ملک سے مذکورہ تمام عفریت کے خاتمے کیلئے ریاست کے ساتھ ساتھ سربراہان جامعات و نوجوانوں بالخصوص طلباء طالبات کو لیڈنگ رول ادا کرنا ہوگا، جامعات کے سربراہان کو طلباء کو مثبت اور متبادل مواقع و پلیٹ فراہم کرنا ہونگے جس سے نوجوان طبقہ کی شمولیت منفی سرگرمیوں میں نہ ہوسکے، انہیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں طلباء مثبت مباحثے کے ذریعے ایک دوسرے کی بات کو سننے کے کلچر کو پروان چڑھا سکیں،وگرنہ تعلیم یافتہ نوجوان انتہاپسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے والی سوچ کے حامل افراد کیلئے آسان حدف ہیں.
ماضی میں برین واشنگ کا الزام مدارس کے طلباء پر تھا کہ لیکن اب بدقسمتی سے تعلیمی اداروں میں موجود نوجوان طبقہ بھی اسکا شکار نظر آتا ہے، جامعہ کراچی کے طلباء کا انصار الشریعہ سے تعلق ،حیدرآباد سے میڈیکل کی طالبہ نورین لغاری پر داعش سے رابطوں کا انکشاف،سانحہ صفورا گوٹھ کا مرکزی ملزم سعد عزیزاور نعیم لغاری بھی بڑے تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم تھے، تعلیم یافتہ اور پڑھی لکھی کلاس کا شدت پسند ی کی طرف رجحان نئے چیلنج کی عکاسی کرتا ہے،جس سے نمٹنے کیلئے ریاست کے امن، بھائی چارہ، رواداری اور محبت کے پیغام کو عام کرناہوگا اور اس متفقہ قومی بیانیہ پر عملدرآمد کرکے اس خطہ کو ایک بار پھر پرامن، مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ ارض وطن ہے جان اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*