.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سفر نامہ » سفرنامہ ….. کلاکوٹ سے روہتاس ….. محمد صفدر ٹھٹھوی

سفرنامہ ….. کلاکوٹ سے روہتاس ….. محمد صفدر ٹھٹھوی

پڑھنے کا وقت: 15 منٹ

محمد صفدر ٹھٹھوی …..

سفر کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ ہر انسان زندگی میں مختلف سفر کرتا ہے۔ قدرت کے حسین رنگوں کو دیکھنے اور تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہم سفر کرتے ہیں۔ ان اسفار میں پیش آنے والے مشاہدات وواقعات اور دیکھے ہوئے مقامات کا بیان اور ان کی تاریخ رقم کرنا اہم جُز ہوتا ہے۔ میں نے آٹھ سال بعد ریل کے ذریعے جہلم کی جانب سفر کیا۔ اس سفر کا آغاز 21 مارچ 2019ءکو دوپہر ایک بجے مکلی سے ہوا۔ چھوٹی بیٹی اریبہ صفدر سے دعائیں لیں اور میرے استاد دوست خالد محمود اور علی اصغر بروہی مجھے حیدرآباد وین سٹاپ ٹھٹھہ تک رخصت کرنے آئے۔

وین کے ذریعے حیدرآباد گدوچوک اور پھر وہاں سے رکشے کے ذریعے ریلوے سٹیشن پہنچا۔ پاکستان ایکسپریس میں سیٹ نمبر 62 بُک تھی۔ افسوس کہ دورجدید میں بھی ہمارا سسٹم تاخیر کا شکار ہے۔ حکومت آئے روز نئی ریل گاڑیاں تو چلا رہی ہے مگر ریلوے کے فرسودہ نظام کو بہتر نہیں کیا جا رہا۔ کراچی سے حیدرآباد تک کے مختصر سفر میں ہی پاکستان ایکسپریس ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کا شکار رہی اور مسافر پریشانی کا۔ گاڑی جہلم اگلے دن 12 بجے کی بجائے 3بجے شہ پہر پہنچی۔ طویل سفر سے طبیعت ناساز ہو گئی۔

ٹرین کے واش روم میں پانی تک موجود نہ تھا۔ حکومت دعویٰ صرف بیانات اور کاغذات تک محدود تھا۔ عوام کو سفری سہولیات 50 سال قبل والی ہی مل رہی ہیں۔ ریلوے سٹیشنوں پر ناقص اور غیر معیاری کھانا مہنگے داموں مل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ریل گاڑیوں کے اندر بھی لوٹ مار کا بازار گرم رہتا ہے۔ آٹھ سال بعد سفر کر کے بھی کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔

جہلم سٹیشن سے اخلاق کے ساتھ اپنی خالہ کے گاﺅں شوپر (میرپور آزادکشمیر روڈ) پر براستہ سرائے عالمگیر آدھے گھنٹے کی مسافت سے پہنچ گیا۔ طبیعت ناساز ہونے کے باعث کھانے کی جگہ چائے طلب کی۔ فریش ہو کر چائے پی اور آرام کیا۔ اخلاق کے ساتھ رات کو ہی روہتاس قلعے پر جانے کا پروگرام ترتیب دیا۔ روہتاس قلعہ مسلمان سپہ سالار شیرشاہ سُوری نے بنوایا تھا۔ شیرشاہ سُوری کا اصل نام فرید خان سُوری تھا۔ بچپن میں اپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے تنگ آکر جونپور پہنچا۔ اپنی محنت اور قابلیت سے اس نے ترقی کی منزلیں طے کیں۔ بابر کی فوج میں شامل ہوا۔

جب بابر نے دہلی فتح کیا تو پھر فرید خان جو شیرخان کہلاتا تھا، بابر بادشاہ نے اس کی طاقت اور شاہی فوج سے بیزاری پر اس کو اپنے قبضے میں رکھنا چاہا مگر شیر شاہ جلد ہی باقاعدہ رخصت لیے بغیر سہرام واپس پہنچا۔ اس نے مغلوں کو ہندوستان سے باہر نکالنے کے لیے اپنی فوج بنانی شروع کی۔ فوجی طاقت حاصل کرنے کے لیے اس نے افغانوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ بہار کے زرّخیز صوبہ کو اپنی جنگی کارروائیوں کا مرکز بنایا۔ شیرشاہ سُوری نے اپنی بلند ہمت اور جنگی چالوں سے 1539ءمیں چونسہ اور قنوج کے مقام پر شہنشاہ ہمایوں کو شکست دی۔

اُس نے بابر کی شاہی ضیافت کے دس سال بعد مغلوں کو ہندوستان سے باہر نکال دیا۔ اس کا بلند ہمت سپہ سالار خواض خان تیزوتُند طوفان کی طرح مغلوں کا پیچھا کر رہا تھا۔ شیرشاہ سُوری نے بھی فوج کے ساتھ مغلوں کو کہیں مہلت نہ دی۔ یہاں تک کہ شہنشاہ ہمایوں سندھ کے ریگستان سے ہوتا ہوا ایران کی سرحد میں داخل ہوا۔ شیر شاہ سُوری مغلوں کا پیچھا کرتے ہوئے جہلم تک پہنچ گیا جہاں اس نے روہتاس کا نیا قلعہ بنانے کا حکم د یا۔

شیر شاہ سُوری نے کوہستان نمک کے پہاڑی علاقہ میں جنگی نقطہ نظر سے قلعہ روہتاس کی بنیاد رکھی۔ قلعہ روہتاس بنانے کی اہم وجہ شیرشاہ سُوری کی جنگی حکمت عملی ہے جس نے ظہیرالدین بابر کے جانشین ہمایوں سے ہندوستان کی حکومت چھین لی۔ قلعہ کی بنیاد 25 مئی 1542ءبروز اتوار رکھی گئی۔ یہ قلعہ اپنے زمانہ کے فنِ تعمیر اور جنگی نقطہ نظر سے بہت مضبوط ہے جبکہ اس کے شمال، جنوب مشرق میں گہری کھائیاں ہیں اور مغرب میں نالہ گھان واقع ہے۔ کوئی بھی حملہ آور آسانی کے ساتھ قلعہ کی فصیل کے پاس نہیں آ سکتا۔ یہی وہ جنگی حکمت عملی ہے جو قلعہ کی مضبوط دیوار کے ساتھ اس کا دفاع کیے ہوئے ہیں۔

23 مارچ کو خالہ کے گائوں شوپر سے خوشگوار موسم میں کار کے ذریعے قلعہ روہتاس کی جانب سفر شروع کیا۔ دو روز قبل شدید بارش کی وجہ سے موسم ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ اس روز بھی بادل چھائے ہوئے تھے۔ سرائے عالمگیر جہلم جی ٹی روڈ دینہ کی جانب 45 منٹ کی مسافت کے بعد قلعہ روہتاس کی حدود میں داخل ہوئے۔ قلعے کے پہلے دروازے کے بعد موجودہ آثار تک 7 منٹ میں پہنچے۔ قلعے کے اندر بہت بڑی آبادی موجود تھی۔ پکی سڑک قلعے کے اندر سے ہوتی ہوئی آگے آبادی کی جانب جاتی ہے۔ اس سڑک پر پبلک گاڑیاں جن میں بڑی بسیں بھی شامل تھیں، رواں دواں نظر آئیں۔

گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرتے ہی چند لوگ ہاتھ میں کتابیں لیے مخاطب ہوئے کہ سر قلعے کی تاریخی تصاویر کے ساتھ کتاب دستیاب ہے۔ اس کتاب میں آپ کو آثار قدیمہ کی معلومات ملیں گی۔ ہم آپ کو قلعے کی سیر بھی کروا سکتے ہیں۔ مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہاں کے لوگ اپنے آثار کی معلومات ہر آنے والے کو بتا رہے ہیں۔ قلعے کے بارے میاں ریاض احمد کی ایک کتاب ” مختصر تاریخ شیرشاہ سُوری اور قلعہ روہتاس“ خریدی۔ قلعے میں خوبصورت پارک اور حکومتی آفس بنے ہوئے ہیں۔ آفس میں 23 مارچ کی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔

قلعہ کے اندر کوٹ میں دروازہ لنگرخانی، شیشی دروازہ، بادشاہی دروازہ، کابلی دروازہ، شاہی مسجد، شیرپنجرہ، پھانسی خانہ، طلائی دروازہ، حویلی مان سنگھ، مقبرہ خیرالنسائ، رانی محل اور دیگر قابل دید آثار قدیمہ ہیں۔ مان سنگھ محل اور رانی محل سب سے اُونچی جگہ پر واقع ہیں۔ قلعے کے اندر سائیں ستار بادشاہ دیواں والی سرکار کا مزار بھی دیکھا۔

سفرِ جہلم کے دوران بچپن کے دوست چوہدری سعید نے راولپنڈی آنے کی دعوت دی۔ ان کے خلوص نے مجھے پہلی بار راولپنڈی کا سفر کرنے پر مجبور کر دیا۔ 24 مارچ کو صبح 9 بجے سرائے عالمگیر سے بس کے ذریعے راولپنڈی کا سفر شروع کیا۔ 11:30پر میں فیض آباد میں بس سے اُترا ہی تھا کہ چوہدری سعید نے کر آکر گلے لگا لیا اور گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر لے آ گیا۔

چوہدری سعید اسلام آباد میں پی ٹی سی ایل میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ اسلام آباد جیسے بڑے شہر میں رہنے کے باوجود وہ سادہ طبیعت کے مالک اور مہمان نواز انسان ہیں۔ ان کا خلوص، مہمان نوازی اور محبت ناقابل فراموش ہے۔ ہم نے چائے پی اور تازہ دم ہوئے۔ پھر چوہدری سعید نے گاڑی پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری کی شاندار عمارت میں جاکر پارک کی۔ اس میوزیم کا قیام 1976ءمیں پاکستان سائنس فاﺅنڈیشن، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی حکومت پاکستان کے زیرانتظام عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ میوزیم چار مختلف شعبوں پر مشتمل ہے جن میں شعبہ نباتات، شعبہ حیوانات، شعبہ ارضیات اور شعبہ عوامی خدمت شامل ہیں۔ پہلے تین شعبہ جات کا بنیادی مقصد پاکستان میں موجود پودوں، جانوروں، معدنیات، چٹانوں اور فاسلز کے نمونے اکٹھے کرنا ہے۔

میوزیم کو دیکھ کر احساس ہوا کہ ہمارا وطن کس قدر قدرتی نعمتوں سے مالامال ہے۔ میوزیم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اس طرح دلکش انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ آنے والے خود کو قدرتی ماحول میں پاتے ہیں۔ میوزیم کے اندر ڈائنوسارز، وہیل شارک اور بلیووہیل کے نظارے قابل دید ہیں۔ میوزیم کے باہر پارک میں بلوچی تھیریم کا بڑا مجسمہ قدرتی انداز میں بنایا گیا ہے۔ مجسّمے کے بورڈ پر ”بلوچی تھیریم“ تحریر تھا ۔ تھیریم دُنیا کے طویل القامت ممالیہ میں سے ایک تھا۔ یہ بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ بگٹی میں پائی جانے والی قدیم نسل تھی جو20 سے 30 ملین سال پہلے یہاں موجود تھی۔ بلوچی تھیریم کا وزن 20 ٹن کے قریب ہوتا تھا۔ پاکستانی اور فرانسیسی سائنس دانوں نے اس کے آثار مشترکہ طور پر 2000ءمیں دریافت کیے تھے۔

نیچرل ہسٹری میوزیم کے بعد ہم لوک ورثہ میوزیم میں گئے۔ میوزیم کے اندر داخل ہوتے ہی پنجابی لوک گیتوں کی آوازیں سنائی دیں، نوجوان گیتوں پر رقص کر رہے تھے۔ میوزیم کے صحن میں پاکستان کی علاقائی ثقافت کے ماڈلز دکھائی دیئے۔ بیل گاڑی، کشتی رانی، کنواں، ٹرک اور دیگر انتہائی قابل دید نظارے نظر آئے۔ ٹکٹ لے کر میوزیم کے اندر داخل ہوئے۔ میوزیم کے اندر پاکستان کے ہر علاقے، تہذیب، فنکار، اداکار، سیاستدان اور دیگر ماڈلز بڑی خوبصورتی سے سجائے گئے تھے۔ پاکستان کے دوست ممالک کی تہذیبوں کو بھی دکھایا گیا۔ ایک حصے میں پاکستان کے معروف بزرگان دین کے مزارات اور اسلامی تہذیب کو اجاگر کیا گیا تھا۔ قبل ازاسلام کی تہذیبوں کو بھی دکھایا گیا۔

Shah Faisal Mosque

چوہدری سعید کو سیروتفریح کا انتہائی شوق ہے۔ اس کی معلومات بھی قابل تعریف ہے۔ ہر موضوع پر جامع بات چیت کر کے میرے علم میں اضافہ کرتا رہا۔ پاکستان کی تہذیبوں، ثقافتوں پر بھی مہارت حاصل ہے۔ اس میوزیم سے فرصت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی دلکش مسجد فیصل مسجد دیکھنے گئے۔ مجھے پہلی بار اس مسجد کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ مسجد کا ڈیزائن قابل دید ہے۔ اسلام آباد آنے والا ہر فرد اس مسجد کو دیکھے بغیر نہیں جاتا۔ مسجد کی دوسری جانب خوبصورت پارک بنایا گیا جہاں لوگ فوٹوگرافی میں مصروف نظر آئے۔ مسجد کے اندر نئی نویلی دلہنیں فوٹوگرافر کے ہمراہ دکھائی دیں۔ مسجد کے پہلے حصے میں اسلامی یونیورسٹی کا کیمپس ہے۔ مسجد کے ساتھ ہی دامنِ کوہ کی بلندوبالا ہری بھری پہاڑیاں انتہائی خوبصورت منظر پیش کررہی تھیں۔

فیصل مسجد سے چوہدری سعید کو درگاہ امام بریؒ پر چلنے کی خواہش ظاہر کی۔ سعید بھائی نے گاڑی درگاہ امام بریؒ کی جانب بڑھا دی۔ درگاہ پر انتہائی رش کا سماں تھا۔ گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ بڑی مشکل سے ملی۔ درگاہ کے اردگرد سڑک کے دونوں اطراف بازار بنا ہوا تھا۔ گاڑی سے اُترے ہی تو دونوں جانب نیاز کے لیے تیار دیگیں لے لیں کی صدائیں سنائی دیں۔ درگاہ کے اندر جانب کے لیے سخت سکیورٹی حصار سے ایک ایک کر کے گزرنا پڑا۔ سعید بھائی نے بتایا کہ درگاہ پہلے بہت چھوٹی سی جگہ پر تھی۔ عقیدت مندوں نے مسجد نبوی کے طرز پر نئی مسجد اور درگاہ کا تعمیراتی کام کروایا۔ درگاہ کے اندر خواتین کے لیے الگ تھلگ درگاہ سے تھوڑی دور مخصوص جگہ مختص تھی۔ پردے کا سخت اہتمام رہا۔ درگاہ کے ایک طرف بیٹھ کر دعا مانگی اور رُخصت ہوئے۔ درگاہ سے نکالنے کے بعد سعید نے اپنی گاڑی اسلام آباد کے ریڈزون کی جانب لے لی۔ مجھ سے مخاطب ہو کر کہا، دیکھو سڑک کے اطراف غیرملکی سفارتخانے، سپریم کورٹ، سینیٹ اور دیگر اہم حکومتی ادارے دکھائے۔ کہا کہ یہاں فوٹوگرافی منع ہے ورنہ یادگار کے طور پر فوٹوبنالیتے۔

سورج اپنی تاب کھو رہا تھا۔ اسلام آباد میں شام کا رومانی منظر آرہا تھا۔ سعید بھائی سے جہلم واپسی کی ضد پکڑی۔ اس نے کہا ابھی تو اسلام آباد میں تم نے دیکھا ہی کیا ہے۔ رات میرے پاس رہو اور بھی بہت سی تفریح کے مقام ہیں مگر وقت کی کمی کے باعث سعید کے خلوص کو انکار کیا۔ دن کے کھانے میں چوہدری سعید نے اسلام آباد کی معروف بریانی، روسٹ، کباب، رائتہ اور سلاد کے ساتھ کھائی۔ سادہ چاول کے ساتھ روسٹ کا منفرد ذائقہ آج بھی تروتازہ ہے۔ فیض آباد بس اڈے سے نان سٹاپ وین کے ذریعے رات 9:30 بجے سرائے عالمگیر اُتر کر ماموں زاد نعمان اصغر کے ساتھ ان کے گھر رات 10:10 پر نریال پہنچا۔ دو روز ماموں کے گھر نریال میں رہنے کے بعد 27مارچ جو صبح 8:30بجے جہلم ریلوے سٹیشن سے ریل کار کے ذریعے لاہور روانگی اختیار کی۔

لاہور ریلوے سٹیشن پر ماموں زاد ارسلان جٹ مجھے اپنے کاروبار سنٹر نیازی چوک لاہور لے آیا۔ کھانے سے فارغ ہو کر درگاہ داتادربار میں دعا مانگی۔ لاہور کے دلفریب جناح پارک گئے۔ جناح پارک میں موجود قائداعظم لائبریری کی شاندار عمارت دیکھی۔ پارک کے اندر دلکش مناظر میں مختلف مقامات پر ماڈلنگ کی دُنیا میں آنے والی خواہش مند لڑکیاں بے شمار ملبوسات کے ساتھ جدید کیمروں کی مدد سے فوٹوبنوا رہی تھیں۔

28مارچ کو ناشتہ کرنے کے بعد 9:30 بجے ارسلان جٹ کے ہمراہ لاہور کے مختلف دروازے اور بازار دیکھے۔ اُردو بازار لاہور دیکھنے کی خواہش پوری ہوئی۔ یہاں سے لاہور کی تاریخ پر مبنی بہترین کتاب خریدی۔ گریٹر اقبال پارک لاہور کی تفریح کو آئے۔ مینار پاکستان کے سامنے فوٹوگرافی کی۔ پارک کے اندر مصنوعی جھیل، تحریک پاکستان کے مناظر پیش کرتی دیوار اور منفرد ڈیزائن پر مبنی پھولوں کی دیواریں قابل دید تھیں۔ پارک کی سیر کے لیے ریل گاڑی اور صاف ستھرا کیفے موجود ہے۔ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ سے ہوتے ہوئے بادشاہی مسجد لاہور اور شاہی قلعہ لاہور کی جانب بڑھے۔ ارسلان جٹ کے ہمراہ بادشاہی مسجد کو ہولیے۔ مسجد کے دروازے کے ساتھ قومی شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر فاتحہ خوانی کی۔ مزار پر موجود گارڈز کے ساتھ یادگار سیلفی بھی لیں۔

بادشاہی مسجد کے اندر داخل ہوتے ہی فوٹوگرافر کی لمبی لائن آنے والوں سے فوٹوگرافی کے لیے متوجہ کررہی تھی۔ مسجد کے دروازے کے ساتھ ہی ارسلان جٹ نے بتایا کہ اُوپر کی جانب اسلامی یادگار کی گیلری ہے۔ اس گیلری میں نادر ونایاب اسلامی اشیاءرکھی گئی تھیں۔ ان مقدس تبرکات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب عمامہ شریف، جبہ مبارک، گدڑی مبارک، تبان مبارک، نقش پائے مبارک، نعلین پائے مبارک، عصاءمبارک، موئے مبارک اور غلاف روضہ مبارک شامل ہیں۔ تبرکات منسوب حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ، حضرت فاطمتہ الزہراؓ اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تبرکات رکھی گئیں۔ ان کے علاوہ دندان مبارک منسوب حضرت اویس قرنیؒ، غلاف مبارک برنگ سیاہ کعبہ شریف، خاک کربلائے معلی اور رُکن یمنی کے ٹکڑے رکھے گئے ہیں۔ پُرنور روحانی مناظر دیکھ کر فرحت حاصل ہوئی۔

بادشاہی مسجد لاہور قدیم یادگار تاریخی مسجد ہے۔ یہ عمارت سنگ سرخ کی ہے۔ قلعہ لاہور کے سامنے حضوری باغ کے سامنے مسجد کی سیڑھیاں شروع ہوتی ہیں۔ مسجد میں لگے کتبے پر اورنگزیب عالمگیر بادشاہ غازی تحریر ہے۔ یہ مسجد فدائی خان کے زیراہتمام تعمیر ہوئی۔ سلطنت شاہجہانی بادشاہ کے جب پنجاب کی حکومت دارالشکوہ کو تفویض ہوئی تو اس نے بہت عمارتیں تعمیر کیں۔ دارالشکوہ نے میاں میر کے مقبرہ تک ایک سڑک سنگ سرخ کی ایسی پاکیزہ بنوائی کہ چائی روز غلام کے واسطے پابرہنہ وہاں جایا آیا کرے اور اس سڑک پر سوائے شہزادہ کے اور کوئی آمدورفت نہ کرے۔ یہ ارادہ ابھی پورا نہیں ہونے پایا تھا کہ عالمگیر اورنگزیب نے باپ پر غالب آکر اس کو قید کر لیا اور دارالشکوہ اپنے بھائی کو قتل کرا دیا اور حکم دیا کہ موجودہ پتھر کی ایک جامع مسجد بنائی جائے اور فدائی خان کو مسجد کی تعمیر کا مہتمم مقررہ کیا۔

بادشاہی مسجد لاہور مستطیل اسی طرز کی ہے جس طرح ٹھٹھہ کی شاہجہان مسجد ہے۔ ٹھٹھہ شاہجہاں کے اوپر گنبد بنے ہوئے ہیں جبکہ لاہور والی مسجد کی سادہ چھت تعمیر کی گئی ہے۔ بادشاہی مسجد کا صحن قدر بڑا ہے۔ مسجد کی اُونچائی سے مینار پاکستان کا نظارہ بڑی دلکش لگ رہا تھا۔ لال پھولوں کا بڑا درخت اس کے پھول ہری بھری گھاس پھونس بکھری پڑی تھی۔ پیچھے ہی مینار پاکستان کی عمارت اس منظر میں قابل دید تھی۔ اس رومانی منظر کی موبائل میں ویڈیو لے کر اپنے بیٹے محمد انس کو واٹس ایپ کردی۔

مسجد کی تاریخ پڑھی تو مختلف دلچسپ واقعات درج ملے۔ مسجد کو مختلف ادوار میں نقصان پہنچائے گئے۔ سکھوں اور انگریزوں نے اس کے میناروں اور فرش کو مسمار کیا۔ بڑا صدمہ اس مسجد پر اس وقت آیا جب رانی چندکنور کے عہد میں مہاراجہ شیرسنگھ نے بٹالہ سے آکر لاہور پر حملہ کیا۔ اس وقت رانی چندکنور قلعے میں محصور تھی اور مہاراجہ شیر سنگھ مسجد میں تھا۔ مسجد کے میناروں پر چھوٹی توپیں شیرسنگھ کے حکم سے چڑھائی گئیں جن کا گولہ قلعے کے صحن کے اندر پڑتا تھا اور قلعے کی مغربی دیوار سے جو گولہ آتا تھا مسجد کے اندر پڑتا تھا۔

تین دن تک یہی حال رہا۔ دوسری مرتبہ بھی جب سرداران سندھانوالیہ قلعے میں محصور ہوئے اور راجہ ہیرسنگھ نے قلعے کا محاصرہ کیا تو اس نے توپیں میناروں پر چڑھوا دیں اور دونوں طرف گولہ باری ہوئی۔ انگریزی کی ابتدائی عملداری میں اس مسجد کو گوروں کی فوج نے قیام کیا اور انگریزوں کے لیے حجروں میں دریچے بنوائے گئے۔ جب مہاراجہ دلیپ سنگھ جلاوطن ہوئے۔ پھر سرکار نے مسجد مسلمانوں کے حوالے کر دی۔ غرض کہ تاریخ میں اس مسجد نے غیر کے بڑے ستم سہے۔

مسجد میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کا لطف اٹھا کر شاہی قلعے کی جانب رُخ کیا۔ لاہور کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل یہ تاریخی قلعہ اکبر بادشاہ کی سلطنت سے پہلے بھی اسی جگہ قلعہ بنا ہوا تھا مگر مختصر اور خام تھا۔ اکبر بادشاہ نے اس کو فراخ کر کے اس کا حصا رپختہ بنوایا۔ شاہی قلعہ لاہور کو اپنے جمالیات اور عماراتی حسن وخوبصورتی کی وجہ سے یونیسکو کی بین الاقوامی ثقافتی ورجہ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ شاہی قلعہ 1100 فٹ طویل اور 1115 فٹ عریض ہے۔ روایت کے مطابق لاہور کے قلعہ اور شیر کی تعمیر راجہ رام چندر کے بیٹے لوہ سے منسوب کی جاتی ہے جس کا زمانہ 200 سے 80قبل مسیح کے درمیان بیان کیا گیا ہے تاہم 1959ءمحکمہ آثارِقدیمہ نے دیوان قدیم کے سامنے میدان میں کھدائی کروائی تھی۔ اس میں پچیس فٹ کی گہرائی سلطان محمود غزنوی کے عہد (16حملہ بمطابق 1025ئ) کا سونے کا سکہ ملا تھا اور پندرہ فٹ مزید گہرائی تک آبادی کے نشانات برآمد ہوئے تھے جس سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے حملے 1021ءسے کافی عرصہ پہلے بھی یہ آباد تھا۔

لاہور کے قلعہ کا ذکر سلطان شہاب الدین غوری (1160ءسے 1188ئ) کے حملوں کے حالات میں ملتا ہے۔ اس قلعہ کو 1241ءمیں منگولوں نے تباہ کیا اور 1267ءمیں غیاث الدین بلبن نے پھر سے تعمیر کرایا۔ اس کے بعد امیرتیمور کی افواج نے 1398ءمیں اس کو تاراج کیا اور سلطان مبارک شاہ سید نے 1421ءمیں مٹی اور گارے سے پھر اس کی تعمیرنو کرائی۔ 1432ءمیں کابل کے شیخ علی نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی مرمت کی۔

موجودہ شاہی قلعہ لاہور مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے تقریباً 1568ءمیں پُرانی بنیادوں پر پکی اینٹوں سے تعمیر کرایا اور شمال کی جانب دریائے راوی کے کنارے تک اس کی توسیع کی۔ دریائے راوی 1849ءتک قلعہ کی شمالی دیوار کے ساتھ ساتھ بہتا تھا۔ اکبر کے عہد کی تعمیرات میں اکبری محل، دولت خانہ خاص وعام، مشہور جھروکہ درشن اور مسجد دروازہ شامل ہیں۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اس میں مختلف عمارتیں تعمیر کروائیں۔ شہنشاہ جہانگیر (1605ءتا 1627ئ) نے دولت خانہ جہانگیر اور مکاتب خانہ تعمیر کروائے۔

شاہجہان نے 1631ءمیں شیش محل اور دیوان عام تعمیر کروائے اور 1633ءمیں خوابگاہ، خلوت خانہ اور حمام شاہی بنوائے۔ 1645ءمیں دیوان خاص اور غالباً اسی سال موتی مسجد کا بھی اضافہ کیا گیا۔ اورنگزیب عالمگیر نے 1674ءمیں عالمگیر دروازہ تعمیر کروایا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ (1977ءتا 1839ئ) نے قلعہ کی بیرونی دیوار سنگ مرمر کا آٹھ درّہ، جوبلی مائی جنداں، حویلی کھڑک سنگھ اور راجہ دھیان سنگھ کی بارہ درّی تعمیر کروائی۔ 1846ءمیں یہاں انگریزوں کا عمل دخل شروع ہوا۔ انگریزی افواج نے اسے اپنے استعمال میں لایا اور کئی حصوں کو نقصان پہنچایا۔ قلعہ میں مخصوص فاصلوں پر مورچے بنائے گئے جس میں تین تین دروازے ہیں۔

مغل دور کی عمارت کو چار بڑے احاطوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں اکیس مختلف عمارات ہیں جیسے شیش محل، دیوان خاص، موتی مسجد، دولت خانہ، احاطہ جہانگیر وغیرہ شامل ہیں۔ (ذیل کی شاہی قلعہ کے بارے میں معلومات قلعہ کے اندر لگے بورڈ سے لکھی تھی۔ یہ بورڈ نظامت اعلیٰ والڈ سٹی لاہور کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔)

شاہی قلعہ کے بارے میں معلومات لکھ کر قریب ہی نصب توپ کا پہلا فوٹو لیا۔ ارسلان جٹ کی رہنمائی میں قلعے کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ قلعہ کے اندر مختلف حصوں پر خوبصورت پارک بنے ہوئے تھے۔ ایک قدیم بڑے درخت کے نیچے ایک ریسٹورنٹ قائم تھا۔ پارک میں قدیم لباس، پگڑی اور تلوار کے ساتھ فوٹوگرافر سیاحوں کو اپنی جانب راغب کررہے تھے اور لوگ قدیم مغل لباس پہن کر ہاتھ میں تلوار تھامے، مختلف انداز میں فوٹو بنوا رہے تھے۔ یہاں پر بھی ماڈلنگ کی شوقین نوجوان لڑکیاں ماڈلنگ کے انداز میں فوٹو بنوا رہی تھیں۔

سیاحوں کو قلعے کے اندر لانے کے لیے بغیر چھت والے فینسی رکشے بھی موجود رہے۔ غیرملکی سیاح ان میں تفریح کرتے نظر آئے۔ قلعے کے اندر داخل ہونے کے لیے پہاڑی نُما سڑک تھی۔ قلعے کے اندر مختلف جگہوں اور قلعے کے باہر دروازے پر علاقائی اور لکڑی کی اشیاءکے سٹال آنے والوں کی دلچسپی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ احاطہ شاہجہانی، باغ وحمام شاہی کو دیکھتے شیش محل کی جانب بڑھے۔ شیش محل کے دروازے پر ٹکٹ لیے گارڈز کے ہمراہ لوگ موجود تھے۔ ہمیں شیش محل کے اندر داخل ہونے کے لیے 100روپے کا ٹکٹ لینے کو کہا۔ ہم نے کہا کہ ہم قلعے کے اندر ٹکٹ لے کر ہی داخل ہوئے ہیں۔ پھر دوبارہ ٹکٹ کس طرح۔ ان کے غیرمناسب رویئے کی وجہ سے ہم وہاں سے قلعے کے دیگر حصوں کی جانب بڑھے۔ مغل گیلری پر لکھی تحریر قلمبند کی۔

مغل گیلری کے اس نایاب شعبے میں قلعی نسخے، شاعر، مذہبی کتابیں خط، حطفی کا ظفرنامہ، فریدالدین عطار کا تذکرہ اور دیگر قیمتی کتابیں موجود تھیں۔ مغل دور کے بیش بہا سکے حفاظت سے رکھے تھے۔ میں نے مغل گیلری کے باہر بورڈ کی تصویرلی اور گیلری کے اندر داخل ہوئے ۔ داخل ہوتے ہی سامنے تاج محل کا شاندار ماڈل شیشے میں رکھا ہوا تھا۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں کتابیں، نسخے، خط اور سکے رکھے تھے۔ میں نے ایک کتاب اور سکوں کی فوٹولی۔ اس دوران چوکیدار اندر آیا اور تلخ کلامی کرتے بولا، یہاں کی فوٹو لینا منع ہے۔ آپ کا موبائل ضبط کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا، ہم آپ کے سامنے فوٹوگرافی کرتے اندر داخل ہوئے ہیں اور فوٹوگرافی نہ کرنے کے حوالے سے کہیں بھی کوئی تحریر درج نہیں۔

اس نے مجھ سے موبائل لے کر باہر کھڑے گارڈ کو دے دیا۔ گارڈ نے کہا، آپ پر پانچ ہزار جرمانہ ہو گا اور موبائل اگلے مہینے کی 28تاریخ کو واپس ملے گا۔ ارسلان جٹ نے کہا، مہمان سے بات کرنے کا آپ کا لہجہ درست نہیں۔ یہ لاہور گھومنے ہی آئے ہیں اور سیاحوں کو بہانے بنا کر تنگ کررہے ہیں۔ میں نے اپنا شناختی کارڈ اور شاعری کا کارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں لاہور سے خوشگوار یادیں لے کر جانا چاہتا ہوں۔ گارڈ نے طویل بحث کے بعد میرا موبائل واپس دیا۔ موبائل لے کر ہم جانے لگے تو گارڈ نے ارسلان جٹ کو بُرا بھلا کہا۔

میں زبردستی ارسلان جٹ کو آگے لے کر بڑھا۔ اس ناخوشگوار واقعہ کے بعد جلد ہی قلعے سے باہر آگئے۔ قلعے کے باہر لگے سٹالز سے بچوں کے لیے تھری ڈی چارٹ اور دیگر اشیاءاور لکڑی کا بنا مینارپاکستان خرید کر ارسلان جٹ کے ہمراہ اس کی اوطاق پر آگیا۔ کھانے کی آفر ہوئی مگر 4بجے کی گاڑی سے روانگی تھی۔ ارسلان کے والد صاحب کا خلوص دیکھتے ہوئے ایک روٹی کھائی کیونکہ سفر کے دوران میں کھانا انتہائی کم کھاتا ہوں۔ ارسلان کے ہمراہ 2:30بجے ریلوے سٹیشن کے لیے روانہ ہوئے۔ 4بجے قراقرم ٹریک پر آگئی۔ ارسلان مجھے گاڑی میں بٹھا کر روانہ ہوا۔ قراقرم ایکسپریس حیدرآباد سٹیشن پر وقت پر آگئی۔ گدوچوک حیدرآباد سے وین میں بیٹھ کر اپنے وطن اپنی سرزمین ٹھٹھہ کے لیے روانہ ہوا۔

٭….٭….٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*