.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » پاکستان سے » ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات

ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ تمام اطراف سے خطے کو تصادم سے دور رکھنے کی کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایران کے وزیرخارجہ جاوید ظریف نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسبی کے امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی، اور ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، خطے کو تمام اطراف سے تصادم سے دور رکھنے کی کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال اسلام آباد میں ایرانی سفیر مہدی ہنردوست اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا جس کے بعد وہ دفتر خارجہ پہنچے اور وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
بعدازاں ایران اور پاکستان کے مابین دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ ایرانی وفد کی قیادت جواد ظریف نے کی۔
فریقین نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ایران کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو طرفہ معاملات پر بدستور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کو سفارتی سطح پر حل کرنے کا حامی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا مصالحتی کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں رہے گا۔
عالمی برادری امریکی جارحیت کو روکے
دوسری جانب اسلام آباد پہنچنے کے بعد جواد ظریف نے ایرانی خبرررساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو امریکی جارحانہ حکمتِ عملی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری امریکا کو بالادستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے سے روکنے میں ناکام ہوگئی تو دنیا کا کنٹرول ان کے ہاتھوں میں چلا جائے گا جو قانون پر یقین نہیں رکھتے۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اور خطے کی ریاستوں کو خطے کی سالمیت کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے’خطے کی ریاستوں کو اپنے مفادات کے لیے پابندیوں کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔
ان کامزید کہنا تھا کہ ایران پاکستان کےمضبوط تعلقات کا خواہاں ہے، اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا ایران کی خارجہ پالسی میں اولین ترجیح رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے گوادر کو ایران سے لے کر ترکمانستان، قازقستان، آذربائیجان، روس اور ترکی کے ذریعے پوری شمالی راہداری سے منسلک کیا جاسکے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ سے بتایا کہ وہ حکومت پاکستان کے لیے چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنے کی تجویز لے کر پاکستان آئے ہیں۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے منصب سنبھالنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ تیسرا دورہ پاکستان ہے جبکہ 2013 میں ان کے وزیر خارجہ بننے کے بعد وہ پاکستان کے دورے پر 10ویں مرتبہ آئے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*