.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » پاکستان سے » منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز بھی گرفتار

منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز بھی گرفتار

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

نیب نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو گرفتار کرلیا، حمزہ شہباز کے وکلا نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں تھیں اور کہا تھا عدالت ہمیں سنناہی نہیں چاہتی توکیاکریں۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کے بعد نیب کی ٹیم نے احاطہ عدالت سےحمزہ شہباز کو گرفتارکرلیا، حمزہ شہباز کو نیب ہیڈکوارٹر منتقل کیا جائے گا اور ریمانڈ کے لئے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
نیب کی جانب سےحمزہ شہبازکےلیےدوسری گاڑی منگوائی گئی جبکہ ہائی کورٹ کے احاطےمیں ن لیگی کارکنان موجو ہے اور نعرے بازی جاری ہے۔
یاد رہے لاہورہائی کورٹ میں جسٹس مظاہرعلی اکبر کی سربراہی میں دورکنی نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی ضمانت میں توسیع کیلئے دائردرخواست پر سماعت کی تھی۔
سماعت میں نیب کا کہنا تھا شہبازشریف فیملی کے1999 میں اثاثوں کی مالیت50 ملین تھی، اثاثوں میں380ملین کااضافہ ہوا، جوآمدن سےمطابقت نہیں رکھتا، شہباز شریف، سیلمان، حمزہ اور نصرت شہباز منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔
نیب نے بتایا حمزہ شہباز نے 42کروڑ کے اثاثے ظاہر کیے ، جس میں 18 کروڑ باہر سے آئے، جن لوگوں کےنام سےپیسےآئےوہ ان سےلاتعلقی ظاہرکرتےہیں، حمزہ شہبازنےآج تک نہیں بتایا باہر سے کس مدمیں رقوم آتی ہیں، جعلی ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے رقوم بیرون ممالک سے منگوائی گئیں۔
وکیل حمزہ شہباز نے کہا تھا عدالت ہمیں سنناہی نہیں چاہتی توکیاکریں، جس کے بعد حمزہ شہبازکےوکلا نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں، درخواست واپس لینے پر عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
یاد رہے حمزہ شہباز نے صاف پانی کمپنی ،رمضان شوگرملز اور آمدن سے زائد اثاثے انکوائری میں 11 جون تک عبوری ضمانت لی رکھی تھی۔
خیال رہے منی لانڈرنگ اورآمدن سےزائد اثاثوں پر شریف فیملی کےخلاف مختلف زاویوں سےتحقیقات جاری ہے ، الزامات کے مطابق شریف فیملی کے انیس سو ننانوے میں اثاثہ جات پانچ کروڑچھتیس لاکھ تھے،اب ان کی دولت سواتین ارب کیسےہوگئی؟
واضح رہے کہ 6 اپریل کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے دو بار حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تاہم نیب انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*