HTV Pakistan

کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہو جائے، ٹیکس ضرور لیں گے

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوگا تو اسے ناراض کریں گے۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی کو ٹیکس دینا ہوگا، ہمارے ملک میں امیر لوگ ٹیکس نہیں دے رہے، اگر کوئی ٹیکس دینے سے ناراض ہو گا تو ہم اسے ناراض کریں گے، لیکن کسی صورت میں ٹیکس چھوٹ اب کسی کو نہیں دی جائے گی، امیروں کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول بات نہیں ہے۔
عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ فائلر اور نان فائلر کا فرق ختم کررہے ہیں، کوئی نان فائلر کچھ بھی خریدے گا اسے فائلر بننا ہوگا، گاڑی اور جائیداد خریدنے والے کو فائلر بننا پڑے گا اور ذریعہ آمدنی بتانا پڑے گا، نان فائلر بننا آسان ہے اور 6 منٹ میں آن لائن کمپیوٹر پر فائلر بن سکتے ہیں، اگر 45 دن میں فائلر نہ بنے گا تو اسکو خودبخود ٹیکس نظام میں لایا جائیگا۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ غلط تاثر ہو گا کہ ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے کوئی چھیڑ چھاڑ ہوئی، تقریبا 12 سو ارب کی ڈومیسٹک ٹیکسٹائل سیل ہے لیکن اس سیل پر 6 سے 8 ارب ٹیکس ملتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا 12 سو ارب کی سیل پر 8 ارب ٹیکس دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کے نظام کی بہتری کیلئے ایک اور پریس کانفرنس کریں گے، مانتا ہوں ریفنڈز کے سلسلے میں بہت بہتری کی گنجائش ہے، بنگلہ دیش اور چین کے ریفنڈ نظام کو متعارف کرانیکی کوشش کریں گے۔
عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ ہم ماضی کے قرضوں کا سود دینے کیلئے قرض لے رہے ہیں، 5 ہزار 555 ارب ریونیو کلیکشن کا بوجھ میں نے ایف بی آر نہیں اپنے اوپر ڈالا ہے، اس میں سے 3 ہزار ارب تو قرضوں کے سود دینے میں چلے جائیں گے، سابق حکومت نے ٹیکس نظام سے آدھے پاکستان کو خارج کر دیا تھا، ملکوں کے درمیان عزت سے کھڑے ہونے کے لیے ہمیں ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، کیا جو شخص ایک لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے وہ ایک یا دو ہزار بھی ٹیکس نہ دے، اگر یہ غریب ہیں تو پھر ان کا کیا بنے گا جو واقعی غریب ہیں۔
مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بجٹ بناتے وقت ہم نے اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی، آمدن اور اخراجات میں توازن کیلئے محصولات کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے، ترقیاتی منصوبوں میں ڈیمز اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے ، بجٹ ایسے ماحول میں پیش کیا جب معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ نعتوں کوگیس اوربجلی کی مد میں سبسڈی دی جائیگی توانائی کےسرکلرڈیٹ کی ادائیگیوں کوبھی نہیں روک سکتے،مشیرخزانہ نان فائلر کے خاتمے کاپلان، گاڑی اور جائیداد خریدنے کیلئے فائلر بننا پڑے گا، سیلز ٹیکس مینوفیکچرنگ کی بنیاد پر جمع کرنے کی کوشش کی ،پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا،،صنعتوں کو گیس اور بجلی کے نرخوں میں سبسڈی ملے گی، ٹیکسٹائل شعبے سے بہت کم شرح سے ٹیکس وصول ہورہا ہے, تحریک انصاف کی حکومت کو 31 ہزار ارب کا قرض ورثے میں ملا، کمزور اور غریب طبقے کے لیے اخراجات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا,کل جمہوری حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا گیا، معیشت مشکل حالات سےگزر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو 31 ہزار ارب کا قرض ورثے میں ملا۔ ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے قرض لے رہے ہیں۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ برآمدات میں شرح نمو صفر فیصد ہے، بیرونی خدشات اور قرضوں کے مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ 9.2 ارب ڈالر مسائل کے حل کے لیے حاصل کیے، درآمدات پر ڈیوٹی لگا کر کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ ٹیکس وصولی کا ہدف چیلنجنگ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 12 فیصد عوام ٹیکس دیتے ہیں جو دنیا میں سب سے کم ہے، ہمیں اپنے ملک سے سچا ہونا ہوگا ٹیکس دینے ہوں گے۔ کوشش کی کہ لوگوں کی امنگوں کو پورا کیا جائے۔ اندرونی خسارے پر قابو پانے کی کوشش کی۔ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارا امیر طبقہ کم ٹیکس دیتا ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر میں لیے گئے قرض ڈالر میں ہی واپس کیے جاتے ہیں۔ اہداف کے حصول کے لیے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں۔ قرضے ہم نے نہیں لیے لیکن ہمیں واپس کرنے پڑ رہے ہیں۔ فوج کو ہم صرف 1100 ارب روپے دے رہے ہیں۔ 3 سے 4 شعبوں میں اخراجات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کمزور اور غریب طبقے کے لیے اخراجات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سماجی بہبود کے لیے بجٹ دگنا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2900 ارب ماضی کے قرض کے سود کی ادائیگی کے لیے ہیں، ماضی کے قرضوں اور سود کے لیے مزید قرض لیے۔ غریب طبقے کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ 300 یونٹ سے کم بجلی کے استعمال پر اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ غریب طبقے کے لیے بجٹ 100 سے بڑھا کر 191 ارب کر دیا ہے، موجودہ حکومت سے پہلے 100 ارب ڈالر کے قرض لیے گئے۔ قبائلی اضلاع کے لیے 152 ارب روپے رکھے ہیں۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ آمدن اور محصولات میں توازن کے لیے ٹیکس کا دائرہ بڑھایا گیا ہے، نجی شعبے کو گیس اور بجلی کی مد میں سبسڈی دی ہے۔ دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم ہر معاملے میں متحد ہیں۔ برآمدات میں واضح کمی آئی جس سے ڈالر کی قدر بڑھی۔ برآمدی شعبے سے اچھا ٹیکس جمع ہو سکتا ہے۔ برآمدی سیکٹر کی مقامی فروخت پر ٹیکس عائد کیا ہے۔ برآمدی سیکٹر کی مقامی فروخت کا حجم 1200 ارب روپے تک ہے۔ ’1200 ارب کی فروخت پر 8 ارب ٹیکس دیا جاتا ہے، ایسا نہیں ہوگا‘۔
انہوں نے کہا کہ ری فنڈ کے سلسلے کو بہتر کرنے کی گنجائش ہے، بنگلہ دیش اور چین کے ری فنڈ ماڈل کو اپنانے کی کوشش کریں گے۔ امیر طبقے کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول نہیں۔ نان فائلر گاڑی اور جائیداد خرید کر خود بخود فائلر بن جائے گا۔ تیل کی قیمت بڑھنے پر چھوٹے صارفین کے لیے 216 ارب رکھے ہیں۔ 1655 ٹیرف لائن میں ٹیکس کی چھوٹ دی ہے۔ پاکستان میں نہ بننے والے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی۔
حفیظ شیخ نے کہا کہ چھوٹے گریڈ کے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کیا، بڑے گریڈ کے افسران کی تنخواہ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ انکم ٹیکس کی سطح میں تھوڑا بہت رد و بدل کیا گیا ہے۔ کولمبیا اور برازیل کی اشیا استعمال کرنی ہیں تو کریں لیکن زیادہ قیمت دے کر۔ 5 ہزار 555 ارب ٹیکس کا بوجھ ایف بی آر نہیں خود پر ڈالا ہے۔ عزت نفس برقرار رکھنی ہے تو ہمیں ٹیکس دینا ہوگا۔ گزشتہ حکومت نے آدھے ٹیکس دینے والوں کو فارغ کردیا، اگر ایک لاکھ کمانے والے غریب ہیں تو باقی غریبوں کا کیا بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی بھی 50 ہزار کمانے والے پر ٹیکس نہیں، کوئی بھی ٹیکس نہیں دینا چاہتا لیکن دنیا میں لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ نئے لگائے گئے ٹیکس گزشتہ ٹیکسوں سے آدھے ہیں۔ مدد کرنی ہے تو تعین کرنا ہوگا کہ کس کی مدد کرنی ہے۔ قبائلی اضلاع دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثر رہے ان کے لیے بجٹ غلط ہے؟
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ قرضوں کی تحقیقات کے لیے بنائے کمیشن کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے، ہمیں ماضی میں لیے گئے قرضوں کی ذمے داری کا تعین کرنا ہوگا۔ چینی کی قیمت میں اضافہ ہوگا لیکن کنٹرول کریں گے۔ محصولات کے اہداف کو حاصل کیے بغیر اپنے پاؤں پر نہیں کھڑے ہوسکتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*