.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » دلچسپ و حیرت انگیز » نیم عریاں تصاویر شیئر کرنے پر خاتون ڈاکٹر کا لائسنس معطل

نیم عریاں تصاویر شیئر کرنے پر خاتون ڈاکٹر کا لائسنس معطل

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار کی میڈیکل کونسل نے انتباہ کے باوجود سوشل میڈیا پر نیم عریاں اور انتہائی بولڈ تصاویر شیئر کرنے پر خاتون ڈاکٹر کا لائسنس معطل کردیا۔

’میانمار میڈیل کونسل‘ (ایم ایم سی) نے 28 سالہ ننگ میوسین کا میڈیکل لائئسنس اس وقت جاری کیا جب حال ہی میں خاتون نے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام پر مزید بولڈ اور انتہائی مختصر کپڑوں میں تصاویر شیئر کیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق میڈیکل کونسل پہلے بھی ننگ میوسین کو نیم عریاں تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک چکا تھا اور انہیں ایک انتہائی نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔

ننگ میوسین نے رواں برس جنوری میں میڈیکل کونسل کو انتہائی نوٹس جاری کرنے پر یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اب سوشل میڈیا پر نیم عریاں تصاویر شیئر نہیں کریں گی۔

ننگ میوسین نے کچھ سال قبل ماڈلنگ کا کیریئر شروع کیا—فوٹو: انسٹاگرام
تاہم خاتون نے میڈیکل کونسل کے انتہائی نوٹس کے باوجود سوشل میڈیا پر نیم عریاں تصاویر کو شیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

میڈیکل کونسل نے ننگ میوسین کی نیم عریاں تصاویر کو میانمار کی ثقافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے انہیں معاشرے کے لیے نقصان کار قرار دیا۔

میڈیکل کونسل کی جانب سے لائسنس معطل کیے جانے پر ننگ میوسین نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ جلد ہی کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گی۔

ماڈل و ڈاکٹر نے میڈیکل کونسل کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا—فوٹو: انسٹاگرام
ننگ میوسین نے بتایا کہ مصروفیات کی وجہ سے انہوں نے تاحال میڈیکل کونسل سے رابطہ نہیں کیا، تاہم وہ جلد ہی کونسل سے لائسنس معطل کیے جانے کے حوالے سے رابطہ کریں گی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر نیم عریاں تصاویر شیئر کرنے کے اپنے فیصلے کو آزادی اظہار کا نام دیتے ہوئے کہا کہ وہ مریضوں کا چیک اپ کرتے وقت تصاویر میں نظر آنے والا لباس نہیں پہنتیں۔

ننگ میوسین کا کہنا تھا کہ جب وہ بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتی ہیں تو وہ اس طرح نیم عریاں لباس میں نظر نہیں آتیں۔

انہوں نے میڈیکل کونسل کے فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کی نیم عریاں تصاویر سے میانمار کی ثقافت کو کیسے نقصان پہنچا۔

واضح رہے کہ ننگ میوسین فزیشن ڈاکٹر ہیں، انہوں نے 4 سال تک ڈاکٹر کی پریکٹس بھی کی، لیکن بعد ازاں انہوں نے ماڈلنگ کیریئر کی شروعات کی۔

ننگ میوسین میانمار کی نئی نسل میں بے حد مقبول ہیں، وہ اپنی نیم عریاں تصاویر اور ’میرا جسم میرا حق‘ کا نعرہ بلند کرنے کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔

بولڈ تصاویر شیئر کرنے کی وجہ سے وہ میانمار کی نوجوان نسل میں مقبول ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
ننگ میوسین کا لائسنس معطل کیے جانے پر کئی لوگوں نے ان کا ساتھ دیا اور میڈیکل کونسل کے فیصلے کو آزاد خواتین کو قید کرنے کا حربہ قرار دیا۔

تاہم کچھ افراد نے ننگ میوسین کا مشورہ دیا کہ وہ ڈاکٹری اور ماڈلنگ میں سے کسی ایک پیشے کا انتخاب کریں، کیوں کہ دونوں پیشوں میں کوئی بھی چیز مشترک نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*