.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » دنیا سے » مصر کے سابق صدر ڈاکٹر مرسی کمرا عدالت میں انتقال کر گئے

مصر کے سابق صدر ڈاکٹر مرسی کمرا عدالت میں انتقال کر گئے

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کمرا عدالت میں انتقال کر گئے ہیں۔مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق سوموار کو عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد ڈاکٹر محمد مرسی کی حالت اچانک بگڑ گئی تھی اور وہ وہیں دم توڑ گئے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف مختلف الزامات کی پاداش میں مقدمات چلائے جارہے تھے اور اس وقت وہ 2012ء میں صدارتی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی میں مبیّنہ غلط بیانی کے جرم میں سات سال کی قید بھگت رہے تھے۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈاکٹر محمد مرسی کو 3 جولائی 2013ء کو صدارت سے معزول کردیا تھا اور انھیں گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا تھا۔

قاہرہ کی ایک فوج داری عدالت نے جون 2015ء میں ڈاکٹر محمد مرسی کو سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں ایک جیل کو توڑنے کے مقدمے میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اسی مقدمے میں اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع ، نائب مرشدعام خیرت الشاطر ،سینیر رہ نماؤں محمد البلتاجی اور محمد عبدالعاطی کو بھی سزائے موت سنائی تھی۔اس مقدمے میں تیرہ دیگر مدعاعلیہان کو ان کی عدم موجودگی میں موت کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

قاہرہ کی اسی ایک فوجداری عدالت نے انھیں قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات چُرانے اور انھیں قطر کے حوالے کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اعلیٰ اپیل عدالت نے ان کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

تاہم واضح رہے کہ ایک اپیل عدالت نے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر مرسی کو سنائی گئی پھانسی کی تمام سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں اور انھیں تختہ دار پر لٹکانے کا کوئی خدشہ نہیں رہا تھا۔البتہ انھیں جاسوسی اور دوسرے مقدمات میں سنائی گئی قید کی لمبی سزائیں برقرار رکھی گئی تھیں اور وہ اس وقت جیل کاٹ رہے تھے۔

مصری حکومت نے ان کی برطرفی کے بعد اخوان المسلمون کے حامیوں ،دوسری جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا تھا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ کے مطابق ڈاکٹر مرسی کی برطرف کے بعد ایک سال کے عرصے میں کم سے کم چالیس ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد میں ان کے خلاف مصری عدالتوں میں غداری اور دوسرے الزامات میں اجتماعی مقدمات چلائے گئے تھے۔ان میں سے سیکڑوں کو سزائے موت یا لمبی مدت کی قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*