.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » ایران خلیج میں سکیورٹی کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار

ایران خلیج میں سکیورٹی کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے یہ پیش کش کی ہے کہ ان کا ملک خلیج میں سکیورٹی کی ذمے دار ی قبول کرنے کو تیار ہے ۔انھوں نے خطے سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے ۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق علی شمخانی نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا:’’ ہم ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہم خلیج فارس اور آبنائے ہُرمز کی سکیورٹی کی ضمانت دینے کو تیار ہیں‘‘۔

انھوں نے ایران کے اس موقف کاا عادہ کرتے ہوئے امریکی فورسز سے مطالبہ کیا کہ ’’وہ خطے میں اپنی موجودگی ختم کردیں کیو نکہ وہ خطے میں بحران اور عدم استحکام کا بنیادی ذریعہ ہیں‘‘۔

علی شمخانی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے حال ہی میں امریکا کے سائبر جاسوسی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو پکڑا اور توڑا ہے۔اس کے علاوہ امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے متعدد ایجنٹوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔

ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران پر گذشتہ ہفتے دو آئیل ٹینکروں پر حملے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکا آبنائے ہُرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت کو یقینی بنائے گا۔انھوں نے فاکس نیوز سے انٹرویو میں کہا کہ ’’ ہمیں جو ذمے داری قبول کرنی چاہیے ، وہ یہ کہ ہم اس آبی گذر گاہ سے جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت کی ضمانت دیں گے‘‘۔

البتہ انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کرے گا یا ایران کو خلیج عُمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں کا قصور وار ثابت ہونے کی صورت میں کیا سزا دے گا؟ البتہ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’تجارتی جہازوں پر اسلامی جمہوریہ ایران نے حملے کیے ہیں ،اس نے جہاز رانی کی آزادی پر حملہ کیا ہے اور اس کا واضح مقصد آبنائے ہُرمز سے جہازوں کوگذرنے کی اجازت نہ دینا ہے‘‘۔

گذشتہ جمعرات کو دو ٹینکروں مارشل آئس لینڈ کے پرچم بردار فرنٹ آلٹیر اور پاناما کے پرچم بردار کوکوکا کورجیئس کو خلیج عمان میں آبنائے ہُرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں تخریبی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ان میں اول الذکر جہاز ایک آبی بم ( تارپیڈو) سے ٹکرایا تھا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے عہدے داروں نے ایران کو اس حملے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔گذشتہ ماہ بھی اسی علاقے میں امارت فجیرہ کے نزدیک خلیج عمان میں چار تیل بردار بحری جہازوں پر بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*