.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » اقتصادیات » پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بھارتی سازش ناکام

پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بھارتی سازش ناکام

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے 3 اہم رکن ممالک کی حمایت حاصل کرلی ہے، تاہم خطرات اب بھی برقرار ہیں۔
اسلام آباد، عالمی منی لانڈرنگ کے نگراں ادارے کی نظر میں جون 2018 سے ہے جب ملک کے مالی نظام اور سیکیورٹی میکانزم کی تشخیص کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ خدشات کی بنا پر اسے ‘گرے لسٹ’ میں ڈالا گیا تھا۔
امریکا، برطانیہ اور پاکستان کے حریف بھارت کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کی صرف ترکی نے مخالفت کی تھی جبکہ پاکستان کے دیرینہ اتحادی چین نے بھی اس معاملے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔
ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کا مشترکہ شریک چیئرمین، نئی دہلی چاہتا ہے کہ اسلام آباد کو پیرس میں مقیم ادارے کی بلیک لسٹ ممالک میں شامل کیا جائے، جو مالیاتی جرائم سے لڑنے میں عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام ممالک کی فہرست ہے۔
تاہم اسلام آباد نے سفارتکاری کے ذریعے ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کرلی ہے۔
36 ملکوں کے ‘ایف اے ٹی ایف چارٹر’ کے مطابق بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کم از کم 3 رکن ممالک کی حمایت ضروری ہے۔
ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے پلینری اینڈ ورکنگ گروپ کے 5 روزہ اجلاس کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ‘خطرہ اب بھی ختم نہیں ہوا’۔
گروپ کی جانب سے اسلام آباد کو بلیک لسٹ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا باضابطہ اعلان پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر تک ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
حکام نے معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے عوامی سطح پر بیان جاری کرنے کی اجازت نہ ہونے پر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے، ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے بعد ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کا خدشہ کم ہوگیا ہے’۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*