.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد

عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

بھارت کو ایک مرتبہ پھر منہ کی کھانا پڑی ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے انڈین جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ وہ پاکستان کی تحویل میں رہے گا.

آئی سی جے نے کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی اور ساتھ ہی کہا کہ بھارتی شہری کی سزا ختم نہیں ہوگی۔ عدالت کو کوئی شبہ نہیں کہ کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے.

جج نے کہاکہ ویانا کنونشن جاسوسی کرنے والے قیدیوں کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا، پاکستان کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے۔

آئی سی جے نے کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی اور ساتھ ہی کہا کہ بھارتی شہری کی سزا ختم نہیں ہوگی،جادھو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔

آئی سی جے نے بھارتی اپیل پر دی ہیگ کے پیس پیلس میں 21 فروری 2019ء کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

کلبھوشن کیس کا فیصلہ سننےکے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کی قیادت میں وفد گزشتہ روز دی ہیگ پہنچا تھا ،وفد میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی شامل ہیں۔

فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں،دونوں ممالک نے 1977ء میں ویانا کنونشن پر دستخط کیے۔

جج نے مزید کہاکہ بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی مانگی ہے جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت نے جادھو کو دہشت گردی کےلئے پاکستان بھیجا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف 3 اعتراضات پیش کیے۔

بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن جادھو پہلے ہی تسلیم کرچکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ ہے، جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لئے بھیجا گیا تھا۔

عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی بریت اور بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق بھارتی درخواست مسترد کردی۔

ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے صدر اور جج عبدالقوی احمد یوسف بھارتی اپیل پر فیصلہ پڑھ کر سنا رہے ہیں جب کہ اس کارروائی میں عالمی عدالت کا 15 رکنی فل بینچ بھی موجود ہے، بینچ میں پاکستان کا ایک ایڈ ہاک جج اور بھارت کا ایک مستقل جج بھی شامل ہے، اٹارنی جنرل انور منصور خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم فیصلہ سننے کے لیے دی ہیگ میں موجود ہے۔

جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں اور دونوں ممالک پورے کیس میں ایک بات پر متفق رہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے، بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگی جب کہ پاکستان نے بھارتی مطالبے پر 3ا عتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ جاسوسی اور دہشتگردی گردی کے مقدمے میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی اس لیے ویانا کنونشن کا اطلاق کلبھوشن کیس پر نہیں ہوتا۔

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کی بریت اور رہا کرکے بھارت کے حوالے کرنے سے متعلق بھارتی درخواست کو مسترد کردیا، کلبھوشن یادیو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا۔

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کی آخری سماعت 18 فروری سے 21 فروری تک جاری رہی تھی، بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کی تھی۔ سماعت کے دوران بھارت کی طرف سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کیے جبکہ پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے بھرپور کیس لڑا تھا۔ 18 فروری کو بھارت نے کلبھوشن کیس پر دلائل کا آغاز کیا اور 19 فروری کو پاکستان نے اپنے دلائل پیش کیے۔ 20 فروری کو بھارتی وکلا نے پاکستانی دلائل پر بحث کی اور 21 فروری کو پاکستانی وکلا نے بھارتی وکلا کے دلائل پر جواب دیئے جب کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد عالمی عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس سے قبل ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کی جانب سے کیس سے متعلق کہا گیا تھا کہ ہم نے تیاری اچھی کی اوراچھا کیس لڑا، ہمارا گمان اورکوشش اچھی ہے اور17 جولائی کو ہی اس کیس پر تبصرہ کریں گے۔

کیس کا پس منظر
بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوکومارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتارکیا گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پرفوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

10 مئی 2017 میں بھارت نے کلبھوشن یادیوکے حوالے سے عالمی عدالت سے رجوع کیا اورکلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عمدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائرکردی تھی۔ 15 مئی کو عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی، دونوں ممالک کا موقف سننے کے بعد عدالت نے 18 مئی کو فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن یادیوکوپھانسی نہ دی جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*