.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » مضامین » ریکوڈک کیس: عالمی عدالت میں پاکستان مقدمہ کیسے ہارا؟

ریکوڈک کیس: عالمی عدالت میں پاکستان مقدمہ کیسے ہارا؟

پڑھنے کا وقت: 13 منٹ

منصور مہدی …..

ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کو تقریباً 6 ارب ڈالر جرمانے کا فیصلہ سنایا ہے جس پر پاکستان میں حسبِ روایت ایک کمیشن بنا دیا گیا ہے۔ یہ کمیشن ناکامی کی وجوہات اور ذمے داروں کے تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کی چھان بین بھی کرے گا کہ کس وجہ سے ملک کو اتنا بڑا نقصان ہوا۔

بلوچستان کے ضلع دالبندین میں چاغی کے قریب ایک بے آباد اور صحرائی علاقے کا نام ریکوڈک ہے۔ بلوچی زبان میں ریکوڈک کا مطلب ریت کی پہاڑی ہے۔ یہ علاقہ ٹیتھیان میگمیٹک آرک کا حصہ ہے، جو ماہرینِ ارضیات کے مطابق افریقی، عرب، انڈین اور یوریشین ارضیاتی پلیٹوں کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔ یہ میگمیٹک آرک رومانیہ سے ترکی، ایران، پاکستان اور افغانستان سے ہوتی ہوئی پاپوا نیو گنی تک پھیلی ہوئی ہے۔

یہاں اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں اور گرمی انتہا کی ہوتی ہے۔ یہاں د±ور د±ور تک آبادی ہے اور نہ پینے کا پانی۔ میگمیٹک آرک کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں معدنیات کی موجودگی کا یقین تھا۔
نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہوئی تو معین قریشی کو بیرونِ ملک سے بلا کر وزیرِاعظم بنایا گیا اور نصیر مینگل بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ مقرر ہوئے۔ اس نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ ایک آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کو دے دیا۔

بلوچستان حکومت نے بی ایچ پی کے ساتھ اشتراک کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ریکوڈک سے ملنے والی معدنیات میں 75 فیصد بی ایچ پی کا حصہ طے پایا، جبکہ 25 فیصد حصہ بلوچستان حکومت کو ملنا تھا اور اسے اس منصوبے میں کچھ بھی سرمایہ کاری نہیں کرنا تھی۔

اس منصوبے کو اس وقت کے نگرانوں نے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کا شاہکار قرار دیا اور ان نگرانوں کو مسلط کرنے والے بھی اس منصوبے پر معترض نہ ہوئے۔

اگلے 10 برسوں میں اس منصوبے کی ملکیت بدلتی چلی گئی۔ 2000ء میں بی ایچ پی نے ایک اور فرم مائن کور کو اس منصوبے میں شامل کرلیا۔ جس کے بعد اس منصوبے کو آسٹریلیا میں ہی بنائی گئی ایک اور کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی ٹی سی) کو منتقل کردیا گیا۔ بعد میں ٹی ٹی سی پاکستان میں رجسٹرڈ کروائی گئی۔ 2006ء میں کینیڈا کی بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگستا نے ٹیتھیان خرید لی۔ ریکوڈک میں ایک سائٹ ای ایل فائیو میں تلاش کا لائسنس 2002ء میں 3 سال کے لیے دیا گیا اور 2011ء تک 2 بار اس میں توسیع کروائی گئی۔

نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہونے کے بعد نگراں حکومت نے مینڈیٹ نہ ہونے کے باوجود ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا ٹھیکہ آسٹریلوی کان کن کمپنی بی ایچ پی کو دے دیا۔

2006ء میں بیرک گولڈ اور چلی کی انٹوفگسٹا نے چارج لیا تو تلاش کے کچھ ہی عرصے بعد زیرِ زمین اربوں روپے کے ذخائر کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ 2009ء میں بلوچستان میں نئی صوبائی حکومت بنی۔ اگست 2010ءمیں ٹی ٹی سی پاکستان نے فزیبیلٹی اسٹڈی جمع کروائی اور فروری 2011ء میں کان کنی کی درخواست دی گئی۔ بس اس کے ساتھ ہی اس منصوبے میں کرپشن کی کہانیوں اور معدنی ذخائر کی لوٹ مار کے اسکینڈلز نے سر اٹھانا شروع کردیے۔ پہلے سے دائر درخواستوں کے علاوہ بلوچستان کے معدنی ذخائر کی حفاظت کے نئے دعویدار بھی عدالتوں میں پہنچے۔

مئی 2011ء میں سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو حکم دیا کہ ٹی ٹی سی پاکستان کی جانب سے دی گئی کان کنی کی درخواست پر ‘منصفانہ اور شفاف’ کارروائی جلد از جلد کی جائے۔ عدالتی مداخلت کے بعد ڈری ہوئی صوبائی حکومت نے جہاں ٹی ٹی سی کا لائسنس منسوخ کردیا وہیں ٹی ٹی سی کو دی گئی سائٹس کے گرد و نواح میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے 11 نئے لائسنس جاری کردیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 11 لائسنس میں سے 5 لائسنس پاکستان اور چین میں بننے والی نئی نئی کمپنیوں کو دے دیے گئے جن کا اس سے پہلے سونے اور تانبے کی تلاش کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ یہ کمپنیاں سپریم کورٹ کے مئی میں دیے گے فیصلے کے بعد محض 4 ماہ کے اندر قائم ہوئیں اور لائسنس لینے میں کامیاب رہیں۔

سپریم کورٹ میں درخواستیں دینے والے اور ان کے وکیل بڑے فخر کے ساتھ کہتے رہے کہ ہم معدنیات کا 75 فیصد ان غیر ملکیوں کو کیسے لے جانے دیں۔ اربوں ڈالر کے ذخائر میں کم از کم 50 فیصد تو ملک کو ملنا چاہئے۔

ذخائر کی تلاش کا کام مکمل ہوتے ہی غیر ملکی کمپنیوں کو بھگانے کا کام پ±راسرار طریقے سے انجام پایا اور چین کی ناتجربہ کار کمپنیوں کو میدان میں اتار دیا گیا۔ ان درخواستوں میں ایک درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا دعویٰ ہے کہ 1993ء میں ہونے والا معاہدہ کرپشن سے لتھڑا ہوا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے افسر کا نام لیتے ہوئے وکیل موصوف نے دعویٰ کیا کہ اس افسر کو آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر 7 سال سزا بھی ہوئی۔

وکیل موصوف کا دعویٰ اپنی جگہ لیکن اس افسر کو ریکوڈک کیس سے جڑے کسی الزام میں سزا نہیں ہوئی تھی۔ اگر وکیل موصوف کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو اس کرپشن کی بنیاد معین قریشی اینڈ کمپنی نے رکھی اور انہیں مسلط کرنے والے بھی برابر کے شریک تسلیم کیے جانے چاہئیں۔

ریکوڈک منصوبے کو متنازع بنانے میں قوم پرست بھی برابر کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے وسائل لٹنے کا شور مچایا اور کچھ قوتوں کو اس شور شرابے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا۔ ریکوڈک کو ایک اسٹریٹیجک اثاثہ قرار دیا جانے لگا اور منتخب حکومتوں کو اس منصوبے میں صرف انگوٹھا لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسٹریٹیجک اثاثہ قرار پانے کے بعد ریکوڈک کو اسٹرٹیجک اتحادی چین کے حوالے کیے جانے کی تیاری ہوئی اور 5 کمپنیاں آگے بڑھائی گئیں۔ چین تانبے کا سب سے بڑا صارف ہے اور وہ ترقی پذیر ملکوں میں کان کنی کے بدلے انہیں انفرااسٹرکچر منصوبے دیتا ہے۔ چینی حکومت کی ملکیتی کمپنی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کور (ایم سی سی) پہلے ہی سینڈک منصوبے پر کام کر رہی تھی اور دسمبر 2010ء میں اس وقت کے چین کے وزیرِاعظم وین جیا باو¿ کے دورہ اسلام آباد کے دوران ریکوڈک منصوبے پر کام کی پیشکش بھی ہوئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*