.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » مضامین » پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار

پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار

پڑھنے کا وقت: 11 منٹ

منصور مہدی ….

پاکستان عالمی منی لانڈرنگ کے نگراں ادارے کی نظر میں جون 2018ءسے ہے جب ملک کے مالی نظام اور سیکیورٹی میکانزم کی تشخیص کے بعد دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ خدشات کی بنا پر اسے ”گرے لسٹ“ میں ڈالا گیا تھا۔ امریکا، برطانیہ اور پاکستان کے حریف بھارت کی جانب سے کیے گئے اس اقدام کی صرف ترکی نے مخالفت کی تھی۔ ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسفک گروپ کا مشترکہ شریک چیئرمین، بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کو پیرس میں مقیم ادارے کی بلیک لسٹ ممالک میں شامل کیا جائے، جو مالیاتی جرائم سے لڑنے میں عالمی معیار پر پورا اترنے میں ناکام ممالک کی فہرست ہے۔ تاہم 21 جون 2019ءکو ہونے والے اجلاس میںپاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ کیونکہ 36 ملکوں کے ”ایف اے ٹی ایف چارٹر“ کے مطابق بلیک لسٹ میں نام ڈالنے سے بچنے کے لیے کم از کم 3 رکن ممالک کی حمایت ضروری ہے۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا قیام 1989ءمیں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔ اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک
عرب ممالک میں سعودی عرب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں مستقل رکنیت حاصل کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ سعودی عرب کی رکنیت کا اعلان فلوریڈا کے شہر اورلانڈو میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے سالانہ اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سعودی عرب، ایف اے ٹی ایف کا 2015 ءسے مبصر رکن تھا۔ سعودی عرب کا ایف اے ٹی ایف کا رکن بننے کے بعد ٹاسک فورس کے مستقل رکن ممالک کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔ دیگر رکن ممالک میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیم، برازیل، کنیڈا، چین، ڈنمارک، یورپین کمیشن، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، گلف کو آپریشن کونسل، ہانگ کانگ، آئس لینڈ، بھارت ، آئرلینڈ، اسرائیل، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا، لکسمبرگ، ملیشیائ، میکسیکو، نیدر لینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے، پرتگال، روس، سنگاپور، جنوبی افریقہ، سپین، سویڈن، سویٹزرلینڈ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں، جب کہ انڈونیشیا بطور مبصر ملک شامل ہے۔

پاکستان سمیت کتنے ممالک گرے لسٹ میں شامل ہیں
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں جون 2018ءمیں شامل کیا گیا تھا، لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل 2008ءاور 2012ء سے 2015ء کے دوران بھی پاکستان اس لسٹ پر رہ چکا ہے۔ پاکستان کے علاوہ جو ممالک اس وقت اس لسٹ میں موجود ہیں ان میں افغانستان، سری لنکا، ایتھوپیا، شام، سربیا، یمن وغیرہ شامل ہیں۔ اگر ان ممالک کے ناموں پر غور کیا جائے تو پاکستان ہی ان میں ممتاز نظر آتا ہے جو اپنی غیر معمولی آبادی، بڑی معیشت اور طاقتور فوج کے باوجود اس لسٹ کی زد میں بار بار آرہا ہے۔

گرے لسٹ کا پس منظر کیا ہے؟
پاکستان کو گزشتہ برس جون میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں اس وقت شامل کیا گیا تھا جب پاکستان اس عالمی ادارے کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق مطمئن نہ کر سکا تھا۔ اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے گزشتہ سال پیرس میں منعقدہ اجلاس میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔

پاکستان کو آخری وارننگ
ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق اپنی پالیسی، قانون سازی اور اس پر عمل درآمد میں موجود خلا کو ختم کرے۔ لیکن اب بھی ہم نے پچاس فیصد کام نہیں کیا ہے۔ تاہم پاکستان کو اب یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ ملک میں دہشت گردی کے روک تھام کے لیے سنجیدہ ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی تنظیم اور دنیا کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان تنظیموں سے منسلک ذیلی فلاحی ادارے مثلاً فلاح انسانیت کو فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا انتظامی و مالی کنٹرول تو فوری طور پر لیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ڈھانچے کو مکمل طور پر حکومتی سرپرستی میں فعال کرنے میں وقت لگے گا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف بھی اگرچہ اپنے مطالبات تبدیل کرتی رہی ہے۔

پہلے انھوں نے پاکستان سے کچھ اور مطالبات کیے تھے جن کو پاکستان نے جب پورا کیا تو ان کے نئے مطالبات سامنے آ گئے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو 10 نکاتی ایکشن پلان پر جنوری 2019ءتک عمل درآمد کرنے کو کہا گیا تھا اور پاکستان کی محدود پیش رفت کے باعث انھیں فوری اقدامات اٹھانے کی تلقین کی۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دیے گئے منصوبے پر مکمل عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے اور خصوصی طور پر ان منصوبوں پر جن کی ڈیڈ لائن مئی 2019ءتھی۔ جس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے اثاثے منجمند کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے تمام صوبوں کو ہدایات بھی جاری کی تھیں۔

حکومت کی جانب سے تمام کالعدم تنظیموں کے ہر قسم کے اثاثہ جات اور ان سے منسلک فلاحی ادارے اور ایمبولینسز بھی حکومتی کنٹرول میں لیے گئے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو دیے گئے 10 نکاتی ایکشن پلان کے مطابق اسے یہ واضح کرنا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق اقدامات کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ نہیں۔ اب گروپ کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا باضابطہ اعلان پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر2019ءکو ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*