.....................
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » مضامین » دودھ بچے کی صحت مندی کی بجائے بیماری کا سبب کیوں؟

دودھ بچے کی صحت مندی کی بجائے بیماری کا سبب کیوں؟

پڑھنے کا وقت: 10 منٹ

منصور مہدی ……

بچوں کے بیمار ہونے کی بنیادی اور سب سے بڑی وجہ فی زمانہ ماں کا بچے کو اپنا دودھ نہ پلانا بن رہا ہے۔ بچے کو فیڈر سے پلائے جانے والا اکثر دودھ بچے کے لیے صحت مندی کی بجائے بیماری کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان میں صرف 48 فیصد مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں، شہر ہوں یا دیہات یہ شرح تقریباً یکساں ہیں۔ صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ جبکہ پنجاب میں سب سے کم شرح میں مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے صحت کے عالمی ادارے کی معاونت سے آغا خان یونیورسٹی نے یہ سروے کیا ہے۔ سروے میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، فاٹا، پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر اور گلگت بلتستان میں ایک لاکھ 15 ہزار گھرانوں سے بچوں، ان کی ماو¿ں اور 10 سے 19 سال کے لڑکے لڑکیوں کی نیوٹریشن کا موازنہ کیا گیا۔

ماں کا دودھ نہ پلانے کا رجحان
پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے نتائج کے مطابق پیدائش سے پانچ ماہ تک 48 فیصد مائیں مکمل طور پر بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ اس کے علاوہ 15 فیصد زبردستی، 17 فیصد جزوی طور پر جبکہ 20 فیصد مائیں اپنا دودھ سرے سے پلاتی ہی نہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 45 فیصد خواتین بچے کی پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر جبکہ 25 فیصد مائیں 24 گھنٹے میں اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے نتائج کے مطابق پیدائش سے پانچ ماہ تک 48 فیصد مائیں مکمل طور پر بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ پیدائش سے ایک سال تک مسلسل بچوں کو دودھ پلانے کا رجحان پاکستان میں سب سے زیادہ صوبہ سندھ میں ہے جہاں یہ شرح 77 فیصد سے زائد ہے۔ جبکہ سب سے کم شرح پنجاب میں ہے جو 62 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 74 فیصد، بلوچستان میں 69 فیصد، اسلام آباد میں 74 فیصد، سابق فاٹا میں 71 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 65 فیصد اور گلگت بلتستان میں 72 فیصد ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے اس سروے کے سربراہ اور طبعی محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ پانچ میں سے ایک گھرانہ نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ دیتا ہی نہیں ہے۔ یہ رجحان صرف شہری علاقوں میں ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے کمیونٹی کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔’خواتین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پیلوٹی کا دوودھ بچے کے لیے کتنا اہم ہوتا ہے اور نوازئیدہ بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہیں دینا چاہیے۔ اس کی افادیت کا اگر ماں کو علم نہیں ہو گا تو بچہ کیا کرے گا، روئے گا تو ماں کو یہ احساس ہو گا کہ میرا دودھ ٹھیک نہیں یا پورا نہیں اتر رہا تو اسے کچھ اور دے دے گی۔‘

اس قومی سروے میں ماں کا دودھ پلانے کی مناسب عمر میں بچوں کو ٹھوس، نیم ٹھوس اور نرم غذا فراہم کرنے کی بھی نشاندھی کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ رجحان سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا) میں دیکھا گیا ہے، جہاں یہ شرح 45 فیصد ہے اور دودھ پیتے بچوں کو غذا دینے کا سب سے کم رجحان اسلام آباد کی ماو¿ں میں موجود ہے جہاں شرح 21 فیصد ہے۔

جبکہ پنجاب میں یہ شرح 35 فیصد، سندھ میں 43 فیصد، خیبرپختونخوا میں 29 فیصد، بلوچستان میں 22، پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر میں 43 فیصد اور گلگت بلتستان میں 40 فیصد ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کے مطابق دیہاتوں میں ضروری نہیں کہ مائیں بچے کو ڈبے کا دودھ دیتی ہوں لیکن وہ بھینس کا یا گائے کا دودھ دے رہی ہیں۔ چائے اور پانی بھی دیا جا رہا ہے۔ 6 ماہ سے قبل ہی خوراک شروع کر رہے ہیں جس کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے چھ ماہ ماں کا دودہ دینے سے بچہ ہزاروں بیماریوں سے بچ جاتا ہے اس کی نشوونما ٹھیک ہوتی ہے آگے جا کر ماں کو بھی فائدہ ہے بچے کو بھی۔

پاکستان میں لاغر بچوں میں کمی نہیں آئی
قومی نیوٹریشن سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کے 40 فیصد بچے سٹنٹ یا لاغر ہیں۔ جو اپنی عمر کے اعتبار سے قدرے کم ذہنی و جسمانی نشوونما کا شکار ہیں۔ جن کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔

صوبائی سطح پر سب سے زیادہ لاغر بچے سابق فاٹا میں ہیں جن کی شرح 48 فیصد ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر بلوچستان ہے جہاں یہ شرح ساڑھے 46 فیصد سے زائد ہے، اس کے بعد گلگت میں 46 فیصد، سندھ میں 45 فیصد، خیبر پختونخوا میں 40 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 39 فیصد، پنجاب اور اسلام آباد میں لاغر بچوں کی شرح سب سے کم ہے۔ جو 36 اور 32 فیصد ہے۔

پاکستان قومی نیوٹریشن سروے کے مطابق 2001 سے لیکر 2018 تک لاغر بچوں کی صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی ہے۔ 2011 میں یہ شرح 43 فیصد سے زائد تھی جو اس وقت 40 فیصد سے زائد ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ اسٹنٹنگ میں کمی نہ آنے کی وجہ یہ ہی سمجھ میں آتی ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ’ان بچوں کی صحت کا اور نشوونما کا براہ راست تعلق ان کی ماو¿ں کی صحت سے ہے، جہاں مائیں کمزور ہیں وہاں بچے بھی نحیف اور لاغر ہیں اور ان کی بڑھوتری ٹھیک نہیں۔‘ ڈاکٹر بھٹہ کے مطابق پاکستان کے جنوبی علاقوں بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاوہ فاٹا میں نحیف اور لاغر بچوں کا تناسب زیادہ ہے۔ اس کا کچھ حد تک تعلق غربت سے ہے اور کچھ تعلق شاید جاگیردارانہ نظام سے بھی ہے، جس میں لوگوں کو اتنا شعور اور اختیارات نہیں ہوتے کہ اپنی صحت اور تندرستی کا خود خیال رکھ سکیں۔

موٹاپے کا شکار بچے اور خواتین
پاکستان میں پانچ سال کی عمر تک کے ساڑھے نو فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں، جن میں لڑکیوں اور لڑکوں کی شرح تقریباً برابر ہے۔ سب سے زیادہ موٹے بچے فاٹا میں اور سب سے کم صوبہ سندھ میں ہیں۔ نیوٹریشن سروے کے مطابق فاٹا میں 18 فیصد، بلوچستان میں 16 فیصد، آزاد جموں و کشمیر میں 13 فیصد، خیبر پختونخوا اور گلگت میں 12 فیصد سے زائد پنجاب میں 9 فیصد اور صوبہ سندھ میں پانچ فیصد بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*