.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » پاکستان سے » پاکستان کا مسئلہ کشمیر عالمی عدالت انصاف لےجانے کا فیصلہ

پاکستان کا مسئلہ کشمیر عالمی عدالت انصاف لےجانے کا فیصلہ

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

وفاقی کابینہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام پر عالمی عدالت انصاف لے جانے کی اصولی منظوری دے دی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عالمی عدالت انصاف جانے کی منظوری دے دی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری کی تصدیق کی، اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور وزارت قانون کو عالمی شہرت یافتہ وکلا کا پینل تشکیل دینے کی ہدایت جاری کردی گئی۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈا زیرِ غور آیا۔
کابینہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ سے متعلق گفتگو اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق صورتحال سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے نریندر مودی کو قائل کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان سے بات کی جس میں انہوں نے کشمیر میں ڈیڈلاک سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر بین الاقوامی مبصرین کو بھیجنے اور میڈیا کو رسائی دیے جانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ ارکان کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث ہوئی، مختلف وزرا عوامی ضروریات سے متعلق کابینہ میں تجاویز پیش کیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ وزارت کے تحت اپنے طور پر فعال ہو کر ملکی سطح عوامی شکایت سیل عوام کے مسائل دور کرنے کی کوشش کررہا ہے، جس پر وزیراعظم نے سیکریٹریٹ میں وزیراعظم سٹیزن پورٹل اور پارلیمانی امور میں وزیراعظم شکایت سیل کے درمیان معلومات کے تبادلے کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت زرتاج گل نے گیس کی فراہمی سے محروم پہاڑی علاقوں میں لکڑیاں جلانے کے باعث آلودگی میں کمی کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے چولہوں کی تجویز دی، وزیراعظم نے اس سولر اسٹوو کی تجویز کو منصوبے کی شکل دینے کے لیے متعلقہ وزارت کو ہدایت کردی۔
اپنی بات جاری کرتے ہوئے معاون خصوصی نے وزیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم وزیراعظم کی جانب سے پلانٹ فار پاکستان کے معاشی اثرات سے متعلق بتایا اور شجرکاری مہم کے دوران پھل دار درختوں کی کاشت بڑھانے سے متعلق جائزہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پھلدار درختوں کی کاشت بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو منصوبے کی شکل میں ڈھال کر کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر توانائی نے عوام دوست اقدامات اور 120 ارب روپے کی بچت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پبلک فنڈز کے بجائے اب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی اور اپ گریڈیشن سرکاری فنڈز سے کی جائےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر برائے امور کشمیر نے سیاحت کے حوالے سے تجاویز پیش کیں کہ سیاحتی مقامات میں ہوٹلوں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے حکومت نے مقامی افراد کے گھروں کے ساتھ ریسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کمرہ بنانے کے لیے قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مقامی افراد کی اضافی آمدن ہوگی اور سیاحوں کو رہائش مل سکے گی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ گیس اور بجلی چوری سے بچانے اور ریونیو کو محفوظ بنانے کے لیے ای میٹر کے نفاذ کے بارے میں آگاہ کیا گیا
ان کا کہنا تھا کہ ایجوکیشن سیکٹر میں وزارت امور کشمیر نے صحت اور تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے بتایا کہ بیرون ملک موجود کشمیری 6 اضلاع میں اپنی مدد آپ کے تحت اسکول، ہسپتال اور یونیورسٹیاں قائم کرنے لیے تیار ہے بشرطیکہ آلات ڈیوٹی فری کیے جائیں اور ٹیکس کی مد میں چھوٹ دی جائے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بین الصوبائی وزارت کی سربراہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کابینہ کو کھیلوں کے فروغ سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو حکومت سنبھالنے کے بعد سے درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کس طرح ایک دیوالیہ معیشت کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا اور اب وہ ایک مستحکم معیشت بننے جارہا ہے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہتر پالیسی کی وجہ سے خصوصی طور پر کرنٹ اکاؤںٹ خسارے میں 30 فیصد کمی کے بعد 19.8 ارب ڈالر سے 13.5 ارب ڈالر ہوگیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*