.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » شہادتِ اِمام حسین علیہ السلام کی اِنفرادیت

شہادتِ اِمام حسین علیہ السلام کی اِنفرادیت

پڑھنے کا وقت: 7 منٹ

ڈاکٹر محمد طاہر القادری …..

شہادت اﷲ کی نعمتوں میں سے ایک گراں بہا نعمت ہے۔ جن خوش نصیب حضرات کو یہ نعمت میسر آتی ہے ان انعام یافتہ بندوں کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ان الفاظ کے ساتھ کیا ہے: ”اور جو کوئی اللہ اور رسول (ا) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت) ان (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیائ، صدیقین، شہداءاور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیںo“ (النسائ، ۴: ۹۶)

مذکورہ آیہ کریمہ میں شہداءکو اﷲ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں میں شامل کیا گیا ہے اور شہداءکو صالحین پر فضیلت دی گئی ہے۔ شہادت بھی ایک کمال اور اﷲ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے بلکہ یہ تو ایسی نعمت ہے کہ اس کی حضور ا کو بھی شدید آرزو تھی۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ ص سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ اکو فرماتے سنا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مسلمانوں کے دل میں اس سے رنج نہ ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکل جا¶ں اور میرے پاس اتنی سواریاں نہیں ہیں کہ سب کو ساتھ لے جا¶ں تو میں ہر اس گروہ کے ساتھ نکلتا جو اﷲ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے جاتا ہے۔“

مگروعدہ الٰہی کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔ آپ ا کے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے سے مانع تھا جبکہ یہ بھی ضروری تھا کہ نبی کی دعا قبول ہو اور یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ شہادت کی خواہش پوری نہ ہوتی۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو خواہش کو یوں پورا فرمایا کہ آپ کے نواسے حضرت امام حسین ص – جنہیں آپ اپنا بیٹا کہہ کر پکارتے تھے – کو آپ ا کے جوہر شہادت کے ظہور تام کے لئے منتخب فرمایا چنانچہ شہادت حسین سیرت النبی ا کا باب بھی بن گئی۔

حضرت امام حسین ص کی شہادت محض شہادت ہی نہیں تھی بلکہ سیرت النبی ا کا ایک باب تھا اس لئے ضروری تھا کہ اس شہادت کو اتنا چرچا اور شہرت ملے کہ اس کے مقابلے میں کسی اور شہادت کو وہ مقام حاصل نہ ہو سکا ہو۔ یہی وجہ ےہ کہ دوسروں کی شہادت کی شہرت اور چرچا ان کے شہید ہونے کے بعد ہوتا ہے مگر حضرت امام حسین ص کی شہادت کا چرچا ان کے شہید ہونے سے پہلے ہو چکا تھا۔
حضرت امام حسین ص ابھی بچے تھے کہ آقائے دوجہاں ا نے حضرت ام سلمہؓ کو اس جگہ کی مٹی عطا فرمائی جہاں امام حسین ص نے شہادت پانا تھی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓجو کہ حضور ا کو اپنی سب ازواج میں سے زیادہ محبوب تھیں ان کو مٹی عطا نہیں فرمائی اور نہ ہی کسی اور زوجہ مطہرہ کے سپرد فرمائی بلکہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے حوالے فرمائی اور فرمایا کہ اے ام سلمہ! جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا شہید ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ا اپنی نگاہِ نبوت سے دیکھ رہے تھے کہ میرے بیٹے کی شہادت کے وقت ازواج مطہرات میں سے صرف ام سلمہ ہی زندہ ہوں گی چنانچہ جب واقعہ کربلا ظہور پذیر ہوا اس وقت صرف ام سلمہ رضی اﷲ عنہا ہی زندہ تھیں، حضور نبی اکرم ا کی باقی تمام ازواج مطہرات وفات پا چکی تھیں۔

محبوب خدا ا نے نہ صرف یہ کہ اس جگہ کی نشاندہی فرمائی تھی جہاں حضرت امام حسین ص نے شہادت فرمانا تھی بلکہ اس سن کی طرف اشارہ بھی فرما دیا تھا جس سن و سال حضرت امام حسین ص کی شہادت ہونے والی تھی۔

حضرت ابو ہریرہ ص سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ا کا فرمان ہے: ”ساٹھ ہجری کے سال اور لڑکوں کی امارت (حکومت) سے اﷲ کی پناہ مانگو۔“

حضور نبی اکرم ا نے ساٹھ ہجری کے سال سے پناہ مانگنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ ساٹھ ہجری میں میرے جگر کے ٹکڑوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جائیں گے اور انہیں بڑی بے دردی سے شہید کر دیا جائے گا۔ یہ صرف چند افراد کی ہلاکت نہیں ہو گی بلکہ اس سے پوری امت مسلمہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہو گی کہ ہمیشہ کے لئے اس کا شیرازہ بکھر جائے گا اور آپس میں اس قسم کے اختلافات پیدا ہوں گے جو ہمیشہ امت کی تباہی و بربادی کا سبب بنتے رہیں گے۔

مذکورہ حدیث پاک سے واضح ہوتا ہے کہ دین میں کمزور لوگوں کی حکومت و امارت ساٹھ ہجری سے شروع ہو گی اور یزید ساٹھ ہجری میں ہی تخت نشین ہوا تھا بلکہ یزید کے بارے میں تو آقا علیہ الصلوٰة والسلام کا فرمان ہے کہ یہ پہلا شخص ہو گا جو عدل و انصاف کے نظام کو تباہ کرے گا۔

حضرت ابو عبیدہ ص سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا: ”میری امت کا امر (حکومت) عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہو گا جس کو یزید کہا جائے گا۔“

آقا علیہ الصلوٰة والسلام کی زبان اقدس سے نہ صرف یہ کہ حضرت امام حسین ص کی شہادت، جائے شہادت اور سن شہادت کو پہلے سے بتلا دیا گیا تھا بلکہ اس بات کی بھی پہلے سے نشاندہی کی جا چکی تھی کہ میدان کربلا میں اہل بیت کرام کے خیمے کس کس جگہ نصب ہوں گے اور کس کس جگہ پر ان کا خون بہے گا۔

الغرض شہادت حسین ص پر اتنی صریح شہادتیں اور واضح دلائل موجود ہیں کہ حضور نبی اکرم ا کی حیات مبارکہ میں ہی ہر خاص و عام میں حضرت امام حسین ص کی شہادت کا چرچا ہو چکا تھا۔ چنانچہ سیدنا امام حسین ص جب میدان کربلا میں پہنچے تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو بارہا کہا کہ شہادت میرا مقدر ہو چکی ہے مجھ کو تو شہید ہونا ہے لیکن میں تم پر شہادت ٹھونسنا نہیں چاہتا۔ تم میں سے جس کسی نے جانا ہے رات کے اندھیرے میں چلا جائے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا چونکہ آپ کو معلوم تھا کہ میری شہادت جوہرِ نبوی ا کے ظہورِ تام کے لئے مقدر کر دی گئی ہے اس لئے آپ نے جان دینے سے خود کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی۔ وہ کسی بھی لمحہ زندگی میں بارگاہ خداوندی میں اس انجام سے بچنے کی دعا کرتے نظر نہیں آتے۔ اگر آپ دعا کرتے تو ممکن تھا کہ کربلا میں پانسا پلٹ جاتا اور اہل بیت کے ایک ایک فرد کے شہید ہونے کی بجائے یزیدی لشکر تہس نہس ہو جاتا۔ دعا سے حالات تو بدل جاتے لیکن اس طرح جوہر شہادتِ نبوی ا کا ظہور ممکن نہ ہوتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*