.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » دین و مذہب » فلسفہ شہادتِ اِمام حسین علیہ السلام

فلسفہ شہادتِ اِمام حسین علیہ السلام

پڑھنے کا وقت: 7 منٹ

ڈاکٹر محمد طاہر القادری …….

تاریخ اسلام شہادتوں سے بھری پڑی ہے مگر جو مقام و شہرت شہادت امام حسین ؑ کو ملی وہ تاریخ میں نہ اس سے قبل کسی کو ملی نہ قیامت تک کسی کو ملے گی آپ کی شہادت کی اتنی بے مثال شہرت کو سمجھنے کےلئے اس مضمون میں اسی فلسفے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

قرآن حکیم میں سورہ نساءکی آیت نمبر ۹۶ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ اور رسول ا کی اطاعت کرے گا وہ اللہ کے انعام یافتگان کی معیت پائے گا۔ جو انبیاءصدیقین، شہداءاور اولیاءو صالحین ہیں۔ پھر فرمایا کہ وہ کتنے اچھے رفیق اور کتنے اچھے ساتھی ہیں۔ اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا وہ دراصل سورہ فاتحہ کی اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے، جس میں ہمیں یہ دعا کرنے کی تلقین فرمائی گئی کہ اے اللہ ہمیں صراط مستقیم عطا کر، پھر صراطِ مستقیم اور ہدایت کی راہ کی خود وضاحت کی کہ یہ اللہ کے انعام یافتہ بندوں کی راہ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی راہِ ہدایت اور صراط مستقیم کو گویا مشخص identify کر دیا ہے اور ہدایت اور صراطِ مستقیم کی پہچان ان شخصیات کے حوالے سے کی جن پر اس کا خاص انعام ہوا۔

اللہ کے انعام یافتہ بندے کون ہیں؟ اس کا جواب سورہ نساءکی مذکورہ بالا آیت میں دیا گیا کہ وہ انبیاءو رُسل علیہم السلام ہیں۔ اس کے بعد صدیقین، پھر شہداءاور پھر صالحین ہیں۔ ان سب کے نقوش قدم سے ہدایت کی منزل پائی جاسکتی ہے۔ اگر ان کی راہ سے تم نے گریز پائی اختیار کی اور مجرّد بحث مباحثوں، مناظروں میں الجھے رہے اور کتابوں میں کھوئے رہے تو ان سے علم تو حاصل ہوسکتا ہے مگر ہدایت بالیقین نہیں مل سکتی۔ علم تب ہدایت میں بدلتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ بندوں سے راہنمائی حاصل کی جائے۔

اس آیت کریمہ سے ایک اور بات واضح ہوجاتی ہے کہ انعام یافتہ بندوں کی چار طبقات میں تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ سب سے اونچا انعام اور سب سے بلند درجہ مل جانے سے اللہ تعالیٰ کی سب سے اونچے درجے کی نعمت بھی مل گئی۔ گویا بارگاہ رب العزت میں نعمت بھی چار قسموں میں تقسیم ہوگی: نبوت، صدیقیت، شہادت اور صالحیت۔ سب سے اونچی نبوت کی نعمت ہے۔ اب چونکہ نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا ہے، قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور نبوتِ محمدی کا فیض ابد تک جاری رہے گا۔۔ تاہم نبوت کے اتباع میں اللہ کی دائمی نعمت باقی تین شکلوں میں جاری و ساری رہے گی۔ اس نعمت الٰہیہ کا دوام صدیقیت، شہادت اور صالحیت و ولایت کی شکل میں ابد تک ا رہے گا۔

دنیا میں آقا ں کی بعثت سے پہلے اور بعد بے شمار شہادتیں ہوئیں صحابہ کرام، تابعین اور بعد کے آنے والے ادوار میں آج تک بڑے بڑے اکابرین امت شہادت سے سرفراز ہوتے رہے لیکن کسی شہادت کو وہ شہرت اور دوام نہ مل سکا جو شہادتِ امام حسین ص کے حصے میں آئی۔

آج ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ شہادت امام حسین ص اپنی حقیقت کے اعتبار سے دراصل سیرتِ مصطفی ا کا ایک باب ہے۔ شہادتِ امام حسین ص میں کمال نبوتِ مصطفی ا کا اظہار اپنی پوری آب و تاب سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس شہادت کو امام حسین ص کی شخصیت کے تناظر میں نہیں آئینہ کمالاتِ محمدی ا میں دیکھا جائے تو پھر اس کی عظمت سمجھ میں آجائے گی۔

اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کو جو نعمت بھی عطا کی وہ واسطہ نبوتِ محمدی ا سے عطا کی سب نعمتوں کی طرح شہیدوں کو شہادت بھی حضور ا کے وسیلہ¿ جلیلہ سے ملتی ہے۔ کوئی بھی عمل نیکی اور تقویٰ تب بنتا ہے جب حضور ا کی اتباع میں ہو۔ اتباع اور پیروی بھی عمل حضور ا کی سند سے بنتی ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا کہ اگر میری محبت چاہتے ہو تو پھر میری اور میرے حبیب ا کی پیروی کرو۔ اگر شہادت حضور ا کی پیروی میں نہ ہو تو دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے مر جانا نعمت اور شہادت کے درجے کو نہیں پہنچے گی۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۴۵۱ میں ارشاد ہوا کہ کشتگانِ راہ خدا کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی حیات کا شعور نہیں۔سنن ابی داو¿د کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ وہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ اللہ کی بارگاہ میں رزق بھی پا رہے ہیں۔ کتنی بڑی نعمت ہے کہ شہید قبر میں مدفون ہوکر بھی زندہ ہیں۔

شہادتِ نعمت تبھی نعمت ہے کہ پہلے یہ نعمت شہادت حضور ا میں پائی جائے۔ اگر سیرت محمدی ا میں شہادت کا باب نہ ہو تو پھر نہ کوئی شہید شہید ہے اور نہ کوئی نعمت نعمت۔ ایک بنیادی نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضور ا نے فرمایا کہ ساری نعمتیں اللہ مجھے دیتا ہے اور تقسیم میں کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری)

اسی طرح حضور ا کو اسوہ¿ کامل بنایا گیا۔ جو حضور اکی پیروی کرے گا اس کا عمل حسنہ بن جائے گا۔ تو شہادت ایک عمل حسن ہے۔ اب یہاں سوال ہے کہ حضور ا کی ذات میں شہادت ظاہراً دکھائی نہیں دیتی اور بادی النظر میں آپ ا شہید نہیں ہوئے۔ جب ایسا ہے تو پھر نعمت شہادت حضور ا کی ذات میں کیسے پائی گئی۔ اس مقام پر دو جہتیں قابل توجہ ہیں ایک یہ کہ نعمت نبوت کا تقاضا ہے کہ حضور ا میں شہادت ہونی بھی چاہئے اور آپ شہید ہوئے بھی نہیں یعنی آپ کو ان معنوں میں شہید نہیں کیا جاسکتا جس طرح دوسرے شہید ہوئے۔ حسب ارشاد ربانی کسی میں اتنی استطاعت نہیں کہ آپ کو شہید کرسکے کہ قرآن کا صاف فرمان ہے: اے حبیب کسی دشمن کا ہاتھ آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ نے اپنے دستِ قدرت سے آپ کو محفوظ و مامون کرلیا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ اللہ نے حضور ا کو شہید نہ کرتے ہوئے بھی مرتبہ شہادت پر فائز کرنا چاہا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*