.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » مضامین » تقرب الہی کی عملی تصویر

تقرب الہی کی عملی تصویر

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

تقرب الہی سے مراد نیک اعمال کے ذر یعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے لیکن کیا یہ قرب صرف حقوق اللّه کے تقاضے پورے کرنے سے حاصل ہو جاۓ گا کیا حقوق العباد کی بھی کوئی اہمیت ہے ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ خالق کی محبت کا طلبگار مخلوق کی محبت سے بیگانہ ہو کر قرب الہی کا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے ایسا ممکن نہیں۔ اگر صرف خالق سے محبت کا تقاضا خالق کی صرف عبادت ہی تھا تو خالق نے انسانی مخلوق کو کیوں پیدا کیا.

قرب الہی کی عملی تصویر تو انسانوں سے محبت ہے انسانوں سے محبت قرب الہی کی میراث ہے یہ سلسلہ مخلوق سے محبت کے سفر سے شروع ہوتا ہے اور اختتام بھی مخلوق کی محبت پر ہوتا ہے مخلوق سے لا تعلقی تو خالق سے لا تعلقی کی دلیل ہے تبلیغ کرنے والا انسان اگر کسی انسان سے اس کے عقیدے کی بنیاد پر اس سے زندہ رہنے کا حق چھین لیتا ہے تو وہ صرف اپنی انا کی تسکین کر رہا ہے ۔مقرب الہی تو زندگی کے ہر نغمے اور ساز کو اپنے خالق کی آواز سمجھتا ہے وہ اپنے زندگی کے نشیب و فراز کو بر حق سمجھ کر اپنی رضا قربان کر دیتا ہے تقرب الہی پانے والا ہر ابتلا میں خالق کی ثنا گوئی کرتا ہے ۔وہ صبر و شکر کا دامن صعوبتوں میں نہیں چھوڑتا وہ آہ سحر گاہی میں کائنات کی حقیقتوں کو دریافت کرتا ہے وہ اپنے جواز ہستی کی تلاش کو اپنا مقصد بناتا ہے اور پھر اس مقصد کو انسانی محبت کے سانچے میں ڈھال کر اسے عملی شکل دیتا ہے وہ انسانوں سے محبت کرتا ہے اس کے نزدیک قرب الہی کی سند حاصل کرنے کا ذریعے مخلوق سے بیگانگی نہیں محبت ہے ۔

طالب کے دل میں سفر کی محبت اور سفر کا سامان مہیا کرنے والا رہبر اسے تقرب الہی کی منازل طے کرواتا ہے اور یہ رہبر انسان ہی ہوتا ہے ۔ جلال دین رومی کو مولانا روم بنانے والی ذات تبریزؓ کی تھی ۔جن کہ فیض نظر سے وہ تقرب الہی کے بلند ترین مقام پر پہنچے حضرت محمّدؑ صلی اللہ علیہ وسلم تقرب الہی کے بلند ترین مقام پر فائز تھے وہ رحمت للعٰلمین تھے تمام مخلوق کے لئے رحمت مجسسم تھے۔ قرب الہی کا طلب گار مخلوق کی محبت میں اپنے قلب کے صحن میں گرتے ہوے آنسووں کی بارش کو رحمت خدا وندی سے تشبیہ دیتا ہے ۔مخلوق کی محبت میں گرتے آنسو اس کے تقرب الہی کے سفر میں اندیھرے میں روشنی کا مینارہ معلوم ہوتے ہیں اس کا ر خشندہ نصیب انھیں آنسووں کی دولت سے لکھا جاتا ہے آج کا انسان صرف اپنی پرستش کرتا ہے۔ وہ قرب الہی کے مقام سے ناآشنا ہے اور اگر وہ آشنا ہے بھی تو اپنی انا کا پجاری ہے وہ مخلوق خدا کے راستے سے گزرے بغیر ہی قرب الہی کو پانا چاہتا ہے انسان دوستی کو ختم کر کے انسان دشمنی کو اپنا کر بد اعتمادی اور بد نظمی کی فضا قائم کر کہ خوفِ خدا کو یکسر ختم کر کہ خوفے مخلوق کو اجاگرکر کہ، نیکی اور بدی کی تمیز ختم کر کہ مخلوق کو بےسہارہ اور بے یارو مددگار چھوڑ کر عقل کی گتھیاں سلجھا کر تقرب الہی کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو کہ نا ممکن ہے ۔

یتیم کا مال کھانے والا مسیحا ہو کر مریضوں کو موت کی وادی میں پہنچانے والا دل میں احساس مروت کے جذبات نا رکھنے والا کسی گھر کو جلتے ہوے دیکھ کر کسی ڈوبتے ہوے کو دیکھ کر فلم بنانے والا اپنی انا کی تسکین کی خاطر ہر کسی سے زندگی کا حق چھیننے والا معصوم بچے بچیوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے والا ملاح غفلت یے حسی کے نشے میں دھت رہنے والا کبھی بھی تقرب الہی کو نہیں پہنچ سکتا کاش کہ ہم۔ ۔۔تقرب الہی کے اصلی مقام کو پہچان سکیں جو مخلوق کی محبت حاصل کئے بنا نا ممکن ہے ۔۔۔کاش۔ ۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*