.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » صحت و غذائیں » دودھ سے متعلق چند غلط فہمیاں دور کریں

دودھ سے متعلق چند غلط فہمیاں دور کریں

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

بچے کی پہلی غذا اور سب سے زیادہ کیلشیم فراہمی کے لئے مخصوص غذا سمجھے جانے والے دودھ سے متعلق بہت سی باتیں ہمارے علم میں ایسی ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

ماہرین غذائیت کے مطابق دودھ سے متعدد غذائیں بنائی جاتی ہیں جس میں پنیر، کریم، دہی اورمکھن شامل ہے، دودھ میں وہ سبھی اجزا شامل ہوتے ہیں جو ایک انسانی جسم کو نشونما کے لیے چاہئے ہوتے ہیں مگر دودھ کو مکمل غذا قرار دینا غلط ہے۔

دودھ کے 240 ملی گرام میں 25.3 فیصد چکنائی، 149 کیلوریز، 88 فصد پانی، 7.7 گرام پروٹین، 11.7 گرام کاربوہائیڈریٹس ، 3.12 گرام شکر جبکہ صفر فیصد فائبر پایا جاتا ہے۔

کیلشیم حاصل کرنے کے لیے دودھ سے بہتر آپشن چیا بیج ہیں جو تخم بالنگا کی ہی ایک قسم ہے، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کے ماہرین غذائیت کے مطابق 100 ملی گرام دودھ میں 125 ملی گرام کیلشیم پایا جاتا ہے جبکہ 100 گرام چیا بیج میں 344 ملی گرام کیلشیم موجود ہوتا ہے۔

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ دودھ کو بار بار ابالنے سے اس کی غذائیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، باڑے سے براہ راست آنے والے دودھ کو بیکٹیریا سے پاک بنانے کے لیے ابالا جاتا ہے جس سے اس کی غذائیت بر قرار رہتی ہے، اگر ڈبے کے دودھ کو بھی ابالا جائے تو اس کی غذائیت ختم نہیں ہو تی۔

دودھ غذائیت سے بھر پور ضرور ہے مگر ناشتے کے لیے مکمل اور ایک اچھا آپشن ثابت نہیں ہوتا کیوں کہ اگر آپ کا نضام ہاضمہ کمزور ہے یا آنتوں کا کوئی مسئلہ ہے تو دودھ کا استعمال مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ صرف دودھ کا استعمال کر لینے سے ناشتے کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا، دودھ کو ہضم کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے، 6 سے 8 گھنٹے کی نیند کے بعد پہلی غذا اگر دودھ لیا جائے تو تروتازہ محسوس کرنے کے بجائے طبیعت میں بھاری پن آ سکتا ہے۔

دودھ پروٹین اور کیلشیم کا ذریعہ سمجھا جاتاہے ، اسے مکمل غذا سمجھ کر صرف اسی پر اکتفا کرنے سے جسم کمزور ہوسکتاہے، ہاں مگر ڈائیٹنگ کے لیے یہ ایک اچھا آپشن ہے۔

اگر صحت مندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو صرف دودھ پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا ۔اس کے علاوہ بھی دیگر غذائیں لینا ضروری ہیں۔

ماہرین غذائیت کے مطابق انسانی جسم کو روزانہ کی بنیاد پر وٹامن سی، فائبر ، منرلز اور آئرن کی بھی ضرورت ہوتی ہے، دودھ میں یہ اجزا نہیں پائے جاتے جس کے باعث دودھ کو روزانہ استعمال کریں مگر اس کے علاوہ دوسری غذائیں بھی اپنے کھانے پینے میں شامل رکھیں۔

جن افراد میں ’ لیکٹوز انٹولیرینس ‘ یعنی دودھ میں موجود شکر کو ہضم کرنے کی سکت نہیں ہوتی ان افراد کے لیے دودھ بد ہضمی اور معدے میں گیس کی شکایت ہوسکتی ہے۔

دودھ کو پھلوں کے ساتھ استعمال کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہے، دودھ اور پھلوں کا ایک استعمال مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*