.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا حکم

بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا حکم

پڑھنے کا وقت: 13 منٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے 1992 میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو متنازع زمین دینے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ ’ایودھیا میں متنازع زمین پر مندر قائم کیا جائے گا جبکہ مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے نمایاں مقام پر 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے‘۔

ایک ہزار 45 صفحات پر مشتمل مذکورہ فیصلہ بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا جس میں ایک مسلمان جج عبدالنذیر بھی شامل تھے۔

تاریخی بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے 1992 میں شہید کردیا تھا—فائل فوٹو:دی ہندو
فیصلے میں بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع زمین کے مالک رام جنم بھومی نئیاز ہیں، ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ مندر کی تعمیر کے لیے 3 ماہ میں ٹرسٹ تشکیل دی جائے۔

فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔

ثابت نہیں ہوا کہ مندر گرا کر بابری مسجد بنائی گئی تھی، عدالت
اہم ترین اور 27 سال سے جای کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ آثارِ قدیمہ کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ بابری مسجد کے نیچے بھی تعمیرات موجود تھیں جو اسلام سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس بات کے اطمینان بخش شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد کسی خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے کئی برسوں سے تیاریاں جاری ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
سپریم کورٹ کے مطابق آرکیالوجیکل سروے انڈیا (اے ایس آئی) نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ متنازع زمین پر 12 ویں صدی عیسوی میں مندر تھا اور نہ ہی خاص طور پر یہ بتایا کہ بابری مسجد کے نیچے پائی جانے والی تعمیرات مندر کی تھیں۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ اے ایس آئی رپورٹ میں اس انتہائی اہم بات کا جواب نہیں دیا گیا کہ بابری مسجد کسی مندر کو گرا کر تعمیر کی گئی۔

مزید یہ کہ اس بات کا بھی کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ 12 ویں صدی عیسویں سے 16ویں صدی عیسوی (جب بابری مسجد بنائی گئی) کے دوران کسی قسم کی تعمیرات موجود تھیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ مسلمانوں نے مذکورہ مسجد کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا، صرف وہاں نماز نہیں پڑھی جاتی تھی جس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے مسجد کی ملکیت چھوڑ دی تھی۔

سماعت کے دوران بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازع ہے جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

فیصلے کا خیر مقدم
ادھر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کی متنازع جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو فراہم کیے جانے کے فیصلے پر بھارت کی حکومتی شخصیات، سیاستدانوں نے خیر مقدم کیا۔

سماعت کے بعد ہندو تنظیموں کے کارکنان خوشی مناتے ہوئے سڑکوں پر آگئے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔

دوسری جانب بھارتی ویب سائٹ کے مطابق مقدمے کے مدعی اقبال انصاری نے بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔

سیکیورٹی سخت
دوسری جانب بابری مسجد فیصلے کے حوالے سے پورے بھارت میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جاسکے۔

علاوہ ازیں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں خصوصی طور پر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا جبکہ حساس مقامات اور علاقوں پر پولیس کے گشت کو بھی بڑھا دیا گیا۔

بھارت کے معاشی حب ممبئی میں 5 ہزار کیمروں کے ذریعے صورتحال کی سختی سے نگرانی کی گئی جبکہ امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 40 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔

سڑکوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے۔

ایودھیا میں ہائی الرٹ
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ایودھیا سمیت پورے اترپردیش کو سیکیورٹی کے حصار میں قید کردیا گیا ہے جس کے تحت تمام دھرماشالے بند کردیے گئے جبکہ غیر مقامی افراد کو شہر سے نکلنے کا حکم دیا گیا۔

علاوہ ازیں کسی بھی ممنوعہ اجتماع سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر، اتر پردیش اور گووا میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی جبکہ متعدد ریاستوں میں تمام تر تعلیمی ادارے بند ہیں۔

دوسری جانب فیصلے کے پیشِ نظر علی گڑھ میں رات کو ہی موبائل فون سروس معطل کردی گئی تھی جبکہ حکام کا کہنا تھا کہ ایودھیا میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل کی جاسکتی ہے۔

بابری مسجد کیس پس منظر
یاد رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں مشتعل ہندو گروہ نے ایودھیا کی بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد بدترین فسادات نے جنم لیا اور 2 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان فسادات کو تقسیم ہند کے بعد ہونے والے سب سے بڑے فسادت کہا گیا تھا۔

جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اس کے بعد سے اس مقام کا کنٹرول وفاقی حکومت اور بعدازاں سپریم کورٹ نے سنبھال لیا تھا۔

بھارت کی ماتحت عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ 2.77 ایکڑ کی متنازع اراضی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم ہو گی۔

ایودھیا کے اس مقام پر کیا تعمیر ہونا چاہیے، اس حوالے مسلمان اور ہندو دونوں قوموں کے افراد نے 2010 میں بھارتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ اپنی اپنی درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کروا رکھی تھیں جس نے اس معاملے پر 8 مارچ کو ثالثی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اس تنازع کے باعث بھارت کی مسلمانوں اقلیت اور ہندوؤں اکثریت کے مابین کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*