.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » پاکستان سے » وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

پڑھنے کا وقت: 12 منٹ

وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا۔

ضلع نارووال میں واقع کرتارپور میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ بھارت سے بھی شخصیات نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری و دیگر افراد نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاستدان نووجوت سنگھ سدھو، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر سمیت ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کیا اور تقریب سے خطاب میں سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دی۔

وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے حکومت اتنی محنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے،انسانیت اور انصاف جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے، جہاں نہ انسانیت ہوتی ہے نہ انصاف ہوتا وہاں جو صرف طاقتور ہوتا ہے بچ جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ گرونانک کا نظریہ فلسفہ بھی انسانیت اور محبت کی بات کرتے ہیں، انسانوں کو تقسیم کرنے، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں وہ لوگ جو انسانیت کے لیے آئے تھے بڑے بڑےصوفی بابا فرید شکر گنج، نظام الدین اولیا، حضرت محی الدین چشتی آج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جاتے ہیں کیونکہ وہ انسانیت کے لیے آئے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ہم آپ کے لیے کرسکے، مجھے اندازہ نہیں تھا برصغیر میں کرتارپور کی کیا اہمیت تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی سکھ برادری کا ’مدینہ‘ ہے، آپ کے دل سے نکلتی ہے، آپ کو یہاں آنے کا موقع ملا۔

عمران خان نے کہا کہ اللہ کے تمام پیغمبر لیڈرز تھے اور لیڈر نفرت نہیں بلکہ لوگوں کو ملاتا ہے، لیڈر نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا، نیلسن منڈیلا نے 27 سال برس جیل میں کاٹنے کے بعد اپنے مجرموں کو معاف کیا اور محبت کا پیغام دے کر خون کی ہولی سے ملک کو بچا لیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ ’خطے میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے‘ اور تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے جسے ہم ہمسائیوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے‘۔

عمران خان نے کہا یہ کچھ نریندر مودی سے کہا تھا لیکن اب یہ مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے،80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے انہیں بند کیا ہوا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا، نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں انصاف سے امن ہوتا ہے، ناانصافی سے انتشار اور انصاف سے امن پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور سارے برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ جو نفرتیں 70 سال سے یہ مسئلہ حل ہونے سے رہیں، جب کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا ان کے حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی وہ دن اب دور نہیں ہے۔

علاوہ ازیں افتتاحی تقریب میں گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور معروف کاروباری شخصیت انیل مسرت بھی شریک تھے۔

کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گورداوارہ پہنچے، جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

امیگریشن کاؤنٹرز پہنچنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے یاتری کے طور پر پاکستان آنے والے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سے ملاقات کی، مصافحہ کیا اور ان سے خیریت بھی دریافت کی۔

بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شریک سابق بھارتی کرکٹر اور وزیر نوجوت سنگھ سدھو سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے بابا گرونانک کے550ویں جنم دن کی تقریبات کے آغاز پر گوردوارے میں داخل ہوتے وقت سکھ مذہب کے احترام کے تحت سر بھی ڈھانپا۔

کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو ایل او سی کی حدبندی بھی ختم ہوسکتی ہے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور کے دروازے دنیا بھر کے سکھ یاتروں کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ایک نئی تاریخ رقم ہونےجارہی ہے، بابا گرونانک کا ایک واضح پیغام تھا اور وہ پیغام امن تھا، بابا گرونانک کا پیغام امن کا پیغام تھا انہوں نے محبت کے بیج بوئے لیکن آج آپ نے دیکھنا ہے کہ برصغیر میں نفرت کے بیج کون بو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم اور سکھ برادری اس فیصلے کو پھیلارہی ہے، باباگرونانک کا امن کا پیغام صوفیا، اولیا، داتا گنج بخش کا پیغام ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام بھی امن، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے ایک سال قبل بھارتیوں سے کیا گیا وعدہ پورا کردیا۔

انہوں نے کہا کہ 72 برس ہوگئے مقبوضہ کشمیر انصاف کے منتظر ہیں، ایک وعدہ ہم نے پورا کیا ایک آپ کریں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا والو! آپ کے سامنے برلن کی دیوار گر سکتی ہے اور یورپ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہےاور آج وہ دن ہے 9نومبر جب برلن کی دیوار گرہی، اگر کرتار پور راہداری کھل سکتی ہے تو لائن آف کنٹرول کی عارضی حدبندی بھی ختم ہوسکتی ہے اور خق خودارادیت کا وعدہ پورا کیا جا سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*