.....................
Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » جشن عید میلاد النبی منانا قرآن سے ثابت ہے …. طاہر القادری

جشن عید میلاد النبی منانا قرآن سے ثابت ہے …. طاہر القادری

پڑھنے کا وقت: 10 منٹ

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری …..

قدرت نے مختلف اَشیاءکو ایک دوسرے کے مقابل اِنفرادی طور پر شرف و فضیلت سے بہرہ ور کیا ہے۔ مختلف جہات و حیثیات سے بعض علاقے دوسرے علاقوں پر اور بعض دن دوسرے دنوں پرجدا جدا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے بھی بعض کو بعض پر فضیلت دیتا ہے۔

انبیاءو رسل میں سے بعض کو بعض پر فضیلت اور امتیاز بخشا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

”یہ سب رسول (جو ہم نے مبعوث فرمائے) ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔“ (البقرہ، ۲: ۲۵۳)
اللہ رب العزت نے بعض ایام کو دیگر ایام پر، بعض مہینوں کو دوسرے مہینوں پر اور بعض ساعتوں کو بھی دوسری ساعتوں پر شرف و اِمتیاز عطاکیا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کی وجہ فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

”رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے۔“ (البقرہ، ۲: ۱۸۵)

اسی ماہِ مبارک کی ایک رات ( شب قدر) کو شبِ نزولِ قرآن ہونے کی بناء پر دیگر راتوں پر فوقیت عطا فرمائی۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

”بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo“ (القدر، ۹۷: ۱)

اِسی طرح دوسرے مقدس مقامات کے باوجود صرف شہر مکہ کی قسم کھاتے ہوئے اسے دوسرے شہروں پر فضیلت دی، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مقدسہ کا بیشتر حصہ اس شہر میں گزرا۔ ارشاد فرمایا:

”میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo“ (البلد، ۹۰: ۱، ۲)

اِسی طرح ایمان اور اسلام کے بعد انسانی معاشرے میں عزت وتکریم اور ایک دوسرے پر فضیلت و برتری کا معیار تقویٰ کو قرار دیا۔ ارشاد فرمایا:

”بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہو۔“ (الحجرات، ۴۹: ۱۳)
الغرض قرآن حکیم کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات اور اشیا کے تقدس کا اظہار اور ان کی فضیلت کی مختلف وجوہ بیان فرمائی ہیں۔ جس طرح لیلة القدر ہزار راتوں سے افضل ہے اور رمضان المبارک دیگر مہینوں پر فضیلت رکھتا ہے، اسی طرح ماہِ ربیع الاول کے امتیاز اور شانِ علو کی وجہ صاحبِ قرآن کی تشریف آوری ہے۔یہ وہ ماہ سعید ہے جس میں رب کریم نے مومنین پر احسان فرمایا اور اپنے پیارے حبیب ا کو دنیا میں بھیجا۔ لہٰذا حضور نبی اکرم ا کی ولادت باسعادت کے طفیل ربیع الاول سال کے دیگر مہینوں کے مقابلے میں نمایاں فضیلت و امتیاز کا حامل بن گیا ہے۔ اسے اگر ماہِ میلادِ مصطفی ا سے موسوم کیا جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔

۱۔ جشنِ نزولِ قرآن سے اِستدلال
قرآن مجید اللہ تبارک و تعالیٰ کا پاکیزہ کلام اور اس کی صفت ہونے کے اعتبار سے شانِ یکتائی رکھتا ہے۔ اس کا نزول انسانیت کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعے انسانیت کو ایسا نور عطا ہوا جس سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور اِنسان شرف و تکریم کے اجالوں میں اپنے اصل مقام کا نظارہ کرنے لگا۔ قرآن ہمیں برگزیدہ اور مکرّم ہستی کے ذریعے عطا ہوا۔ اللہ کی اس کتاب نور کو ایک نور لے کر آیا۔ ارشاد فرمایا:

”بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)o“ (المائدہ، ۵: ۱۵)

جب قرآنی علم کے ذریعے انسان کو اللہ تعالیٰ نے لامتناہی عظمتیں عطا کی ہیں تو اس ہستی کی عظمتوں کا عالم کیا ہوگا جس پر اس کتابِ زندہ کا نزول ہوا اور جس کی تجلیات و تعلیمات سے عالمِ انسانیت کو یہ عظیم ذخیرہ علم و حکمت اور مصدرِ ہدایت عطا کیا گیا، جس کا قلبِ اطہر وحی الٰہی کا مہبط بنا اور حسنِ صورت و سیرت قرآنِ ناطق قرار پایا۔ آپ ا کے علوِ مقام کا ادراک کون کر سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ قرآنِ مجید حضور ا کے اسوہ کامل اور آپ ا کے فضائل و خصائل کے ذکرِ جمیل کا ہی مجموعہ ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں جھانک کر انسان اپنے بگڑے ہوئے خد و خال کو سنوار سکتا ہے۔ بقول اقبال،
ترجمہ(اے بندہ خدا! قرآن کے آئینے میں اپنے کردار کو دیکھ، تیری حالت بگڑ چکی ہے۔ خود کو اپنی اس دگرگوں حالت سے نکال اور اس کردار کی طرف لوٹ جا جس کا نقشہ تجھے آئینہ قرآن میں نظر آرہا ہے۔)

لہٰذا قرآنِ حکیم جیسی عظیم نعمت پر ہدیہ تشکر بجالانا قرآن پر ایمان اور اس سے محبت کے اہم ترین تقاضوں میں سے ہے۔ لیکن نعمتِ قرآن پر شکر بجا لانا اس وقت تک ممکن ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکتا ہے جب تک اس ذاتِ اَقدس کی ولادتِ باسعادت پر اللہ کا شکر ادا نہ کیا جائے جن کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے اِنسانیت کو قرآن جیسی نعمت سے فیض یاب فرمایا۔ اِس لیے جب ہم نزولِ قرآن کی رات جشنِ نزولِ قرآن کے طور پر بڑے اہتمام سے مناتے اور اس میں قرآن حکیم کے فضائل و تعلیمات کا ذکر کرتے ہیں؛ تو جس ہستی کی بہ دولت یہ عظیم نعمت ہمیں میسر آئی ا±س کی ولادت باسعادت کی رات بہ درجہ اولیٰ زیادہ اِہتمام کے ساتھ منائی جائے گی۔

۲۔ جشنِ نزولِ خوانِ نعمت سے اِستدلال
پہلی امتوں کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی نعمتوں سے نوازا جس پر وہ اللہ کے حضور شکر بجا لاتے اور حصولِ نعمت کا دن بطورِ عید مناتے تھے۔ جیسے خوانِ نعمت ملنے کا دن جشنِ عید کے طور پر منایا جاتا تھا۔ اِس مثال سے مقصود یہ باور کرانا ہے کہ سابقہ امتیں اپنی روایات کے مطابق مخصوص دن مناتی چلی آرہی ہیں اور قرآن نے ان کے اس عمل کا ذکر بھی کیا ہے۔

”اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے عید ہوجائے ہمارے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو۔“ (المائدہ، ۵: ۱۱۴)

لہٰذا جب سابقہ ا±متیں معمولی سی نعمت پر شکر بجا لاتی تھیں تو امت مسلمہ پر بہ درجہ اَتم لازم آتا ہے کہ وہ اپنے آقا ا کی آمد کی خوشی منا کر اس عظیم ترین نعمت کا شکر شرحِ صدر کے ساتھ بجا لائے، کیوں کہ ایسا کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*